رام اللہ،9؍ستمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)فلسطین میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں قید دو فلسطینی سگے بھائیوں محمد البلبول اور محمود البلبول نے صہیونی سپریم کورٹ کی طرف سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ مسترد کر دیا ہے۔ دونوں بھوک ہڑتالی اسیران کا کہنا ہے کہ صہیونی عدالت انہیں بلیک میل کرنا چاہتی ہے۔ عدالتی فیصلے کا مقصد علاج تک جیل سے رہا کرنا اور علاج کے بعد دوبارہ گرفتار کر کے انتظامی حراست میں ڈالنا ہے۔ فلسطینی محکمہ امور اسیران کے مندوب ایاد مسک نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ دونوں بھوک ہڑتالی بھائیوں نے اسرائیلی عدالت کا فیصلہ مسترد کر دیا ہے۔ عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ دونوں فلسطینی بھائی بھوک ہڑتال ختم کر دیں، اس کے عوض اسرائیلی انتظامیہ ان کے علاج معالجے کے انتظامات کرے گی مگر اس فیصلے میں یہ نہیں کہا گیا کہ دونوں اسیران کی انتظامی حراست ختم کی گئی ہے۔دونوں اسیران کا کہنا ہے کہ اسرائیلی انتظامیہ نے جس طرح محمد علان نامی بھوک ہڑتالی قیدی کے ساتھ سلوک کیا۔ ان کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کرنا چاہتی ہے۔ محمد علان کو بھی بھوک ہڑتال ختم کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ اسے کہا گیا تھا کہ اسے دوبارہ انتظامی حراست میں نہیں ڈالا جائے گا مگرعلاج کے دوران ہی اسے دوبارگرفتار کر لیا گیا تھا۔ جس پرعلان ایک بار پھر بھوک ہڑتال پرمجبور ہوئے تھے۔خیال رہے کہ فلسطینی شہری محمد البلبول اور محمود البلبول دو ماہ سے زاید عرصے سے اپنی بلا جواز انتظامی حراست کے خلاف بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دونوں کی حالت تشویشناک ہونے کے بعد اسپتال منتقل کیا گیا ہے، جہاں وہ بدستور تشویشناک کیفیت سے دوچار ہیں۔