ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / عمر کھیڑ میں جمعیۃ علماء مہاراشٹرا کے وفد کو ریلیف تقسیم کرنے سے پولس نے روک لیا

عمر کھیڑ میں جمعیۃ علماء مہاراشٹرا کے وفد کو ریلیف تقسیم کرنے سے پولس نے روک لیا

Mon, 19 Sep 2016 19:58:33    S.O. News Service

ممبئی۱۹؍ ستمبر (ایس او نیوز/پریس ریلیز) گنیش وسرجن کے جلوس کے دوران مہاراشٹر کے ایوت محل ضلع کے عمرکھیڑ نامی علاقے میں ہوئے فرقہ وارانہ فساد کا جائزہ لینے کے لئے جمعیۃ علماء مہا راشٹر (ارشد مدنی) کا ایک وفد جب ریاستی ذمہ داروں کی ایماء پر جائے وقوع پر پہونچا اور متاثرین میں ریلیف تقسیم کرنا چاہا تو پولس انتظامیہ نے ریلیف تقسیم کرنے نہیں دیا جس کے بعد مجبوراً وفد نے عبوری راحت کے لئے ایک لاکھ روپیہ نقد مقامی ذمہ داروں کے سپرد کیا اور بے قصور گرفتار نوجوانوں کی رہائی کے لئے لیگل سیل ٹیم تشکیل دی ۔

جمعیۃ علماء مہارشٹر کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ جمعیۃ علمائ مہاراشٹرا کے نائب صدر حافظ مسعود احمد جو وفد کی قیادت کررہے تھے سے پولس سپرنٹنڈنٹ اکھلیش کمار نے نہایت ہی غیرذمہ دارانہ انداز میں تلخ کلامی کی اور ان کو ریلیف تقسیم کرنے سے روک دیا۔ساتھ ہی ان کو دھمکی دی کہ اگر وہ ریلیف تقسیم کرنے سے باز نہیں آئیں گے تو ان کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔ مجبوراً وفد نے ایک لاکھ روپیہ نقد مقامی ذمہ داروں کے سپرد کیا، حالانکہ علاقہ کی صورت حال یہ ہے کہ لوگ کھانے کے محتاج ہو گئے ہیں۔

اس وفد میں شامل حاجی عبد الرفیق، حاجی حبیب الرحمٰن،اورعبد الرحمٰن کے حوالے سے پریس ریلیز مین بتایا گیا ہے کہ فساد کی بعد سے علاقہ کے لوگوں میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہوگیا ہے،اور لوگ اپنے مکان کو چھوڑ کر عارضی طور پر محفوظ مقامات پر چلے گئے ہیں۔ شہر میں کاروبار بند ہیں،جس کی وجہ سے روزی روزگار کے مسائل بھی پیدا ہوگئے ہیں۔بتایا گیاہے کہ  جن کے افراد کو گرفتار کیا گیا ہے،ان میں کچھ مکانات ایسے ہیں جن میں کئی کئی افراد کو گرفتار کیا گیا ہے،وہ بے سہارا بیٹھے امداد کے منتظر ہیں۔ ان کے لئے دو وقت کی روٹی کا بھی انتظام کرنا مسئلہ بن گیا ہے۔

اس موقع پر مولانا شکیل احمد حسینی (صدر جمعیۃ علماء ضلع ایوت محل)، مفتی جاوید قاسمی (جوائنٹ سکریٹری جمعیۃ علماء ضلع ایوت محل )، مولانا اختر ندوی(صدر جمعیۃ علماء عمر کھیڑ)، حافظ محمد انصار اشاعتی( نائب صدر جمعیۃ علماء ضلع ایوت محل)، ایڈوکیٹ سید الیاس(عمر کھیڑ)، ایڈوکیٹ رفیع اللہ (عمر کھیڑ)، طاہر مرزا (پترکار)، مفتی سید عابد قاسمی(عمر کھیڑ)جمیل چاؤس(عمر کھیڑ)حافظ عبد العزیز(عمر کھیڑ)حافظ محمد وسیم (عمر کھیڑ)حافظ محمد ثاقب(عمر کھیڑ)مولوی مختار حسینی (پوسد) وغیر ہ موجود تھے ۔

اس معاملہ کے ہونے کے بعد ہی سے ریاستی ذمہ داران مولانا مستقیم احسن اعظمی (صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر)مولانا حلیم اللہ قاسمی(جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء مہاراشٹر) گلزار احمد اعظمی(سکریٹری قانونی امداد کمیٹی )حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور مقامی ذمہ داروں سے برابر رابطہ میں ہیں۔

پریس ریلیز کے  مطابق وفد کی واپسی کے بعدمسلم ملزمین کو پولس تھانہ سے لاکر ان کے گھروں کی تلاشی لی جارہی ہے،پولس کے اس جانبدارانہ رویہ کی بناء پر مسلمانوں میں مزید دہشت پیدا ہو گئی ہے اور وہ نقل مکانی کو سوچ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ جمعرات کی شب گنیش وسرجن جلوس کے درمیان دو گنپتی منڈلوں کے درمیان تنازعہ ہوا ،اور ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا گیا، شر پسندوں نے کچھ پتھر مسلم بستیوں پر بھی پھینکے جس کے بعد مسلم نوجوانوں نے مداخلت کی ۔ اور یہ آپسی جھگڑا فرقہ وارانہ روپ میں بدل گیا۔ دونوں فرقوں کے درمیان ہونے والے پتھراؤ کے نتیجے میں ایک گنپتی کی مورتی ٹوٹ گئی جس کے بعد پولس نے ۳۰؍ مسلم نوجوانو ں کو گرفتار کیا۔

جن ۳۰؍ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا انہیں۱۷؍ستمبر ۲۰۱۶ء ؁ بروز سنیچر عمر کھیڑ کی نچلی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں انہیں۲۱؍ ستمبرتک پولس تحویل میں دیئے جانے کے احکامات عدالت نے جاری کیئے حالانکہ سرکاری وکیل نے دس دنوں کی پولس تحویل طلب کی تھی لیکن دفاعی وکلاء کی مخالفت کے بعد صرف چار دنوں کی تحویل دی گئی۔ پولس نے اس معاملے میں ان کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 535,307,324,436 و دیگر کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

عدالتی کارروائی کے اختتام کے بعد گلزار اعظمی نے بتایا کہ وہ مقامی وکلاء ایڈوکیٹ سید الیاس، ایڈوکیٹ رفیق اللہ خان، ایڈوکیٹ عارف خان اور ایڈوکیٹ انصار کے رابطہ میں ہیں اور جیسے ہی ملزمین کی عدالتی تحویل میں منتقلی ہوگی ہم فوراً  ان کی ضمانت عرضداشتیں داخل کریں گے۔
 


Share: