بغداد،2نومبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)عراق کی انسداد دہشت گردی فوج کے سربراہ جنرل طالب شغاتی نے کہا ہے کہ ملک کے شمالی شہر موصل کو جنگجو تنظیم داعش کے قبضے سے چھڑانے کے لیے عملی کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عراقی فوج موصل شہر کے مضافات میں داخل ہوچکی ہیں جس کیبعد پیش قدمی کا سلسلہ جاری ہے۔عراق کے ایک مقامی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی فورس کے سربراہ جنرل شغاتی نے کہا کہ اندرون موصل شہر کی کالونیوں میں فوج کے داخلے سے قبل سیکیورٹی حکام نے شہر کے نواح میں باغیوں کے قبضے میں رہنے والے آخری قصبے قوقجلی پر بھی کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ اس کے بعد ہماری فوجیں موصل کی انتظامی حدود میں داخل ہوگئی ہیں۔
قبل ازیں اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے انسانی حقوق کی ترجمان رافینا شامداسانی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ عالمی اتحادی فوج کے حملوں کے باعث داعش پچیس ہزار شہریوں کو انسانی ڈھال بنانے کی کوششوں میں ناکام رہی ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ داعش نے ہزاروں شہریوں کو موصل میں انسانی ڈھال بنانے کا فیصلہ کیا تھا مگر اتحادی فوج کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں پچیس ہزار افراد کو محفوظ مقامات تک منتقل کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔بغداد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسز شامداسانی نے کہا کہ داعش نے سوموار کی صبح جنوبی موصل سے 25ہزار شہریوں کو حمام العلیل کے مقام سے ٹرکوں اور منی بسوں کے ذریعے موصل شہر کی طرف لے جانے کی کوشش کی تھی۔ مگر اتحادی ممالک کی فضائی بمباری کے باعث داعشی دہشت گرد شہریوں کو انسانی ڈھال بنانے میں ناکام رہے ہیں جس کے بعد مقامی آبادی کو دوبارہ ان کے علاقوں میں پہنچا دیا گیا ہے۔ چند ایک بسیں حمام العلیل کے شمال میں 15کلو میٹر دور ابو سیف قصبے میں پہنچا دی گئی تھیں۔درایں اثناء اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ موصل کے گردو پیش میں داعشی جنگجو اجتماعی قتل عام کررہے ہیں۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ داعش نے 10سابق عراقی فوجیوں کو قتل کرنے کے بعد ان کی نعشیں دریائے دجلہ کے کنارے پھینک دی تھیں۔اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کردہ رپورٹس میں عراقی فوج اور اس کی معاون شیعہ ملیشیا کی جانب سے موصل کی جنگ میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یو این رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ عراقی فوج، نجی ملیشیاؤں اور اتحادی فوج کے فضائی حملوں میں بھی بے گناہ شہریوں کی ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔