نئی دہلی، 3 ؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )سپریم کورٹ نے کرناٹک حکومت سے آج کہا کہ وہ کل دوپہر تک رپورٹ پیش کرکے اسے مطلع کرے کہ کیا اس نے 30؍ستمبر کی عدالتی ہدایت کے مطابق تامل ناڈو کے لیے کاویری ندی سے پانی چھوڑا ہے۔دریں اثنا، مرکزی حکومت نے بھی عدالت عظمی میں ایک عرضی داخل کر کے عدالت سے اپنے سابقہ اس فیصلہ میں تبدیلی کی درخواست کی ہے جس میں اس کو منگل تک کاویری واٹر مینجمنٹ بورڈ قائم کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔مرکزی حکومت کی جانب سے اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے عدالت سے کہا کہ اس بورڈ کی تشکیل کے لیے مرکز سے نہیں کہا جانا چاہیے تھا کیونکہ اس مسئلے پر اہم دیوانی اپیل اب بھی زیر التواء ہے اور بورڈ کی تشکیل کرنے کی ذمہ داری عاملہ کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔جسٹس دیپک مشرا اور جسٹس سی ناگپن کی بنچ مرکزی حکومت کی عرضی پر کل سماعت کرے گی۔عدالت عظمی نے اپنے 30؍ستمبر کے فیصلہ پر عمل درآمد کے بارے میں کرناٹک حکومت سے کل شام دو بجے تک رپورٹ طلب کی ہے۔عدالت عظمی نے 30؍ستمبر کو کرناٹک حکومت کو ہدایت دی تھی کہ وہ یکم سے 6 ؍اکتوبر کے دوران تمل ناڈو کو 6 ہزار کیوسک پانی فراہم کرائے۔ساتھ ہی عدالت نے آگاہ کیا تھا کہ کسی کو یہ معلوم نہیں ہوتا ہے کہ کب وہ قانون کے غضب کا شکار ہو جائے گا۔عدالت عظمی نے مرکز کو بھی کاویری واٹر انتظام بورڈ قائم کرنے کی ہدایت دی تھی۔عدالت عظمی نے کہا تھا کہ ایک بار یہ بورڈ قائم ہو جانے پر اس کی ٹیم موقع کا معائنہ کرکے صورتحال کا جائزہ لے گی اور پھر اپنی رپورٹ پیش کرے گی ۔کرناٹک نے تمل ناڈو کو کاویری کا پانی چھوڑ ے جانے کے بارے میں 20 27اور 30؍ستمبر کے تین عدالتی احکامات اور کاویری پانی انتظامات بورڈ قائم کرنے کے لیے مرکز کو ہدایت دئیے جانے پر نظر ثانی کے لیے یکم اکتوبر کو عدالت میں ایک عرضی دائر کی تھی۔