کمٹہ 22؍دسمبر (ایس او نیوز) یوں لگتا ہے کہ ضلع شمالی کینرا میں حالات امن و آشتی کی طرف جلد لوٹنے والے نہیں ہیں۔ کیونکہ ہندو ہتھ رکھشنا سمیتی نے اعلان کیا ہے کہ وہ 27دسمبرسے ضلع میں جیل بھرو تحریک چلائے گی۔
کمٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کاروار کے سینئر وکیل ناگراج نائک نے کہا کہ ضلع میں چل رہی حکومت کی جانب سے حمایت یافتہ اشتعال انگیزدہشت گردی ، ہندوؤں کو مار ڈالنے کی کوششیں اور حال ہی میں رونماہونے والے واقعات میں انڈین پینل کوڈ کے ناجائز استعمال کے خلاف آواز بلندکرنے کے لئے جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ناگراج نائک نے بتایا کہ بھٹکل میں رامچندرا نائک کی خود کشی سے لے کر ہوناور کے پریش میستاکی قتل کا شک پیداکرنے والی موت تک حالات کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو بھٹکل، چنداور، کمٹہ اور دیگر تعلقہ جات میں ہونے والے احتجاج کے پس منظر میں پولیس کی طرف سے بے قصور ہندوؤں پر ڈکیتی، قتل کی کوشش جیسے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔ایک معاملے میں ضمانت ملتے ہی دوسرا معاملہ درج کرکے ستم ڈھایا جارہا ہے۔ کمٹہ کے کچھ لوگوں پر خود پولیس نے حملہ کیا ہے اور انہیں علاج کے لئے منی پال میں داخل کیا گیا ہے۔عوام کی حفاظت کرنے والے ہی خوف و ہراس پیداکرہے ہیں۔
ناگراج نے سوالات کی جھڑی لگاتے ہوئے کہا کہ پریش میستا کی لاش ملنے پر تعلقہ میجسٹریٹ اور پولیس والوں کی طرف سے ایک غیر فطری موت کا کیس درج کرنے کے بعد ضلع ڈپٹی کمشنر نے اسے ایک فطری موت کیسے قرار دیا؟ ڈی سی کو ایسا کہنے کے لئے کہاں سے دباؤ پڑا تھا؟ انہوں نے اپنی حد پار کرتے ہوئے ملزموں کو تحفظ دینے کی کوشش کیوں کی؟کیا پریش کا پوسٹ مارٹم کرنے کے لئے ضلع میں کوئی قابل سرکاری ڈاکٹر موجود نہیں تھا ؟ورنہ اتنی دور منی پال کو بھیجنے کی کیا ضرورت پیش آئی؟ پوسٹ مارٹم کی قطعی رپورٹ سے پہلے سوال و جواب کی صورت میں عبوری رپورٹ کی کیا ضرورت تھی اور قطعی رپورٹ آنے سے پہلے ہی یہ عبوری رپورٹ ضلع بھر میں لیِک کیسے ہوگئی؟جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ 24 گھنٹوں کے اندر جاری کردینی چاہیے ، تو پھر بلاوجہ اسے اب تک کیوں روک کر رکھا گیا ہے؟ ناگراج نائک نے پوچھا کہ جب اتنا سب کچھ ہوجائے تو پھر ضلع کے عوام اگر بھڑک اٹھتے ہیں تو اس میں غلطی کیا ہے؟
ناگراج نے پولیس کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ کمٹہ کے جو لوگ ابھی ضمانت پر رہا ہوئے ہیں ،ان کے خلاف اگر پتھراؤ کرنے، سوڈا واٹر کی بوتلیں اچھالنے وغیرہ کے ویڈیو کلپس ہوں تو وہ سامنے لائے جائیں۔شادی کا دعوت نامہ دینے کے لئے نکلنے والوں، بازار میں خریداری کے لئے جانے والو ں ، اسپتال میں آنے والوں میں سے جو بھی ملا اسے جیل میں ٹھونسنے کا کام چل رہا ہے۔یہ سب فوری طور پر رک جانا چاہیے۔ورنہ ضلع بھر سے لاکھوں لوگ جیل بھرو تحریک میں شامل ہونے کے لئے تیار کھڑے ہیں۔
ُ پریس کانفرنس کے دوران ایک اور لیڈر بی ایس پائی نے کہا کہ ہوناور میں تلوار لے کر نکلنے والوں کو پولیس خود ہی تحفظ دے گی تو پھر ایسی صورت میں ہندوؤں کا احتجاج کرنا ایک فطری عمل ہے۔ لیکن صرف ہندوؤں پر جھوٹے مقدمات دائر کرکے خوف پیدا کیا جارہا ہے۔ بے قصوروں کی گرفتاری پر فوراً روک لگنی چاہیے ورنہ 27دسمبر سے ضلع بھر میں پولیس تھانوں کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے جیل بھرو تحریک چلائی جائے گی۔
پریس کانفرنس میں ایڈوکیٹ آر جی نائک، ڈاکٹر وی جی شیٹی، اے آر نائک، ایل ایس امبیگا، وی ایس ہیگڈے، پرمیشور دیواڈیگا بھٹکل ، منجوناتھ بھٹ، ڈاکٹر جی جی ہیگڈے، راجیشور مہالے، میرا نائک، سدھا گوڈا، روہیداس گاوڈی، ڈاکٹر سریش ہیگڈے، سبرامنیا شاستری، وینکٹیش نائک وغیرہ موجود تھے ۔