کمٹہ2؍جون (ایس او نیوز) ضلع سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ونایک پاٹل کا کہنا ہے کہ ساحلی شہروں میں چوری اور ڈکیتی کے لئے دیگر ریاستوں سے آنے والی لٹیروں کی ٹیمیں سرگرم ہوگئی ہیں۔ اس بات کی تصدیق کنداپورکے بعض مقامات سے ملنے والے سی سی کیمرہ فوٹیج سے ثابت ہوگئی ہے۔بین الریاستی چوروں کی ٹولیاں ضلع شمالی کینرا میں وارداتیں انجام دینے کے اشارے ملنے کے بعد ڈی وائی ایس پی قیادت میں تحقیقات کے لئے پولیس کی 2ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔
شمالی کینرا کے کمٹہ شہرمیں انجام دی گئی متعدد چوری کی وارداتوں کے سلسلے میں شہر کے ذمہ داران کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ ایس پی نے اظہارخیال کرتے ہوئے مزید یہ بھی کہا کہ مقامی چوروں کی جانب سے اس طرح کی منظم وارداتیں انجام دینے کا امکان بہت ہی کم ہے۔اس لئے شہر میں اجنبی افراد گھومتے پھرتے نظر آئیں تو عوام کو چاہیے کہ وہ اس بات کی اطلاع پولیس کو دیں۔
ایس پی نے کہا کہ ضلع میں موجود تمام زیورات کی دکانوں میں سی سی کیمرہ لگانے کی ہدایت دی گئی تھی، مگر اب بھی بہت سارے دکانداروں نے اس پر عمل نہیں کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب گاؤں او رقصبوں میں نیا بیٹ سسٹم لاگو کیا گیا ہے، جس میں دیہی مقامات پر عوامی اجلاس منعقد کرکے وہاں کے مسائل کی جانکاری لینے کی ہدایت پولیس افسران کو دی گئی ہے۔شہروں کے اہم سرکلس پر سی سی کیمرے عوامی تعاون سے نصب کیے گئے ہیں۔
اس میٹنگ میں اپنی بات رکھتے ہوئے ایم ایل اے شاردا شیٹی نے کہا کہ پہلے توراتوں میں چوریاں ہو رہی تھیں مگر اب تو د ن دہاڑے چوریوں کی وارداتیں انجام دی جارہی ہیں۔اس سے عوم کے دلوں میں شک پید اہوتا ہے کہ کیا واقعی پولیس اپنی ذمہ داری ٹھیک طریقے سے نبھا رہی ہے۔میں نے اس سلسلے میں وزیر داخلہ سے بات چیت کی ہے ۔ چوری کی وارداتیں دوبارہ نہ ہوں ، اس کو یقینی بنانا پولیس محکمے کی ذمہ داری ہے۔
میٹنگ کے دوران بھٹکل ڈی وائی ایس پی شیوکمار، سرکل انسپکٹر نرسمہا مورتی کے علاو ہ شہر کے معززین کی بڑی تعداد شریک رہی۔