نئی دہلی30جنوری(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) مسلم خواتین کی بہبود کی غیر سرکاری تنظیموں کے فیڈریشن نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر جمہوریہ ہند کے خطاب میں مسلم خواتین کے تعلق سے اظہار خیال کو اسلام کے اصولوں پر راست حملہ قرار دیتے ہوئے حکومت کے اپروچ کی سخت مذمت کی ہے اور صدر سے خطبے کے متعلقہ حصے کو حذف کرانے کا مطالبہ کیا ہے ۔
آج یہاں پریس کلب میں29غیرسرکاری تنظیموں کے فیڈریشن نے ایک پریس کانفرنس میں حکومت کو یہ مشورہ بھی دیاہے کہ وہ ملک کی دوسری سب سے بڑی اقلیت کے جذبات کو اس طرح مجروح نہ کرے۔فیڈریشن کی ڈائریکٹرڈاکٹر اسما زہرہ نے بتا یا کہ29جنوری کوپارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے صدر کے خطاب کے ذریعہ حکومت ہند نے جس طرح ملک کے مسلمانوں کے جذبات کومجروح کیا ہے ووہ انتہائی صدمہ انگیزہے ۔
واضح ہوکہ ملک بھرمیں احتجاج کے ذریعے مسلم خواتین مستقل طلاق بل کی مخالفت کررہی ہیں لیکن تماشہ یہ ہے کہ اسی بل کوسرکارخواتین کی بہبود پرمبنی بتاکرپارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظورکرانے کے لیے ایڑی چوٹی کازورلگارہی ہے۔جس کے کئی مشمولات پرسرکردہ مسلم تنظیموں نے اعتراض کرتے ہوئے انہیں،سپریم کورٹ کے فیصلے کے مخالف،خواتین مخالف،اسلام مخالف اورخودآئین مخالف قراردیاہے۔