بنگلورو۔29؍نومبر(ایس او نیوز)شہر بنگلور اور اس کے اطراف واکناف موجود غیر قانونی لے آؤٹس کے پھیلاؤ پر روک لگانے کیلئے ریاستی حکومت نے غیر قانونی لے آؤٹس کی فہرست تیار کرکے اسے حکومت کو پیش کرنے کے مقصد سے اڈیشنل چیف سکریٹری کی قیادت میں ایک اعلیٰ اختیاری کمیٹی قائم کی گئی ہے۔اس کمیٹی کی رپورٹ ملنے کے بعد غیر قانونی لے آؤٹس کے خلاف کارروائی شروع کی جائے گی۔ یہ بات آج وزیر برائے ترقیات بنگلور کے جے جارج نے بتائی۔ وقفۂ سوالات میں جنتادل (ایس) کے گوپالیا کے سوال کاجواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ غیر قانونی لے آؤٹس کے خلاف کارروائی کیلئے رہنما خطوط وضع کرنے کیلئے اس کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے۔کمیٹی میں محکمۂ شہری ترقیات اور دیگر سرکاری محکموں کے اعلیٰ افسران بھی شامل ہیں۔ گزشتہ ماہ کمیٹی نے پہلی میٹنگ میں اس سلسلے میں تبادلۂ خیال کیا ہے۔ اس ضمن میں دیگر سرکاری محکموں سے بھی معلومات طلب کی گئی ہیں۔کمیٹی کی طرف سے جو بھی سفارشات حکومت کو پیش ہوں گی ان کو نافذ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومت نے بی ڈی اے کی حدود میں 127 غیر قانونی لے آؤٹس کی نشاندہی کی ہے۔ ان تمام لے آؤٹس کے مالکان کو سائٹ ترتیب دینے سے روک دیا گیا ہے اور تمام تفصیلات بی ڈی اے کو پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ شہر کے تپ گنڈنا ہلی آبی ذخیرہ کے آس پاس زیر ترتیب غیر قانونی لے آؤٹس اور غیر قانونی شیڈس کو ہٹانے کیلئے کارروائی کی جارہی ہے۔انہوں نے کہاکہ ان غیر قانونی صنعتی شیڈس کا آلودہ پانی تپ گنڈنا ہلی آبی ذخیرہ میں داخل ہورہا ہے۔ اسے روکنے کیلئے فوراً قدم اٹھائے جائیں گے۔انہوں نے بتایاکہ اکرما سکرما اسکیم کو ریاستی لیجسلیچر میں دو مرتبہ منظوری مل چکی ہے اور گورنر نے بھی منظوری کی مہر ثبت کردی ہے، لیکن منگلور سٹیزن فورم کی ایک مفاد عامہ عرضی کے سبب اس پر عمل پیرائی نہیں ہوپائی ہے۔اس سلسلے میں عدالت کے فیصلے کے بعد اگلی کارروائی کی جائے گی۔