ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / شہاب الدین کی رہائی کے خلاف دائر عرضیوں پرآج فیصلہ کرے گا سپریم کورٹ

شہاب الدین کی رہائی کے خلاف دائر عرضیوں پرآج فیصلہ کرے گا سپریم کورٹ

Fri, 30 Sep 2016 15:40:46    S.O. News Service

نئی دہلی، 29؍ستمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )راشٹریہ جنتا دل کے سابق ایم پی اور دبنگ لیڈر شہاب الدین کی جیل سے رہائی کے خلاف دائر عرضیوں پر سپریم کورٹ کل اپنا فیصلہ سنائے گا۔ایک قتل میں پٹنہ ہائی کورٹ کی جانب سے شہاب الدین کو دی گئی ضمانت کو چیلنج دینے والی دو اپیلوں پر عدالت نے آج اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔پٹنہ ہائی کورٹ سمیت مختلف عدالتوں میں شہاب الدین کے خلاف چل رہے مقدموں میں اس کی ضمانت کی مخالفت پر لچر رویہ اپنانے کو لے کر سپریم کورٹ نے نتیش کمار کی قیادت والی بہار حکومت کو جم کر لتاڑ لگائی۔غور طلب ہے کہ بہار کے حکمراں اتحاد میں راشٹریہ جنتا دل اہم شراکت دار ہے۔اپیلوں پر سماعت کے آغاز کے بعد سے ہی عدالت کے سخت رخ کا سامنا کر رہی بہار حکومت سے آج پھر سوال کیا گیا کہ راجیو روشن قتل کے 17ماہ بعد بھی شہاب الدین کو الزامی خط کی کاپی کیوں نہیں مہیا کرائی گئی۔اپنے دو چھوٹے بھائیوں کے قتل کے چشم دید گواہ رہے راجیو کے قتل عدالت میں ان کی گواہی سے کچھ ہی دنوں پہلے کر دی گئی تھی،تقریبا تین دنوں تک تمام فریقوں کو سننے والی جسٹس پی سی گھوش اور جسٹس امیتابھ رائے کی بنچ نے نچلی عدالت کے ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان عدالتوں میں پیش آئے الگ الگ واقعات سے نکالے گئے نتیجے کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کر سکتی، کیونکہ آرڈر شیٹ سے پتہ چلا ہے کہ ملزم کو پولیس ریکارڈ مہیا نہیں کرایا گیا تھا۔

بنچ نے کہا کہ ہمیں ریکارڈ کے حساب سے کام کرنا ہے،یہ کیسا استغاثہ ہے کہ نچلی عدالت ڈیڑھ سال تک کہتی رہی کہ پولیس ریکارڈ مہیا کرایا جائے،آپ(حکومت)نہیں کہہ سکتے کہ کارروائیوں میں استغاثہ کا کوئی کردار نہیں ہوتا،یہ یک طرفہ معاملہ نہیں ہو سکتا۔ریاستی حکومت کے جواب سے غیر مطمئن بنچ نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ ہم نچلی عدالت کی کارروائیوں کو نہیں سمجھتے۔دو الگ الگ جرائم میں اپنے تین بیٹوں کو گنوا چکے چندرکیشور پرساد کی طرف سے پیش ہوئے وکیل پرشانت بھوشن نے شہاب الدین کی اس دلیل کی پرزور مخالفت کی کہ اسے نچلی عدالت میں داخل کئے جانے کے 17ماہ بعد تک الزامی خط سمیت کیس ریکارڈ مہیا نہیں کرائے گئے۔پرشانت نے کہا کہ یہ گڑھی ہوئی کہانی ہے جو سپریم کورٹ میں پہلی بار کہی گئی ہے، وہ بھی زبانی طور پر بغیر کسی حلف نامے کے۔انہوں نے کہا کہ شہاب الدین نے سیشن عدالت میں جرم پر نوٹس لئے جانے کے بعد نچلی عدالت کے حکم کو چیلنج کیا تھا۔


Share: