واشنگٹن ،16؍دسمبر (ایجنسی)امریکہ کے وزیر خارجہ ریکس ٹلر سن نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کی بڑھتی ہوئے نیوکلیر صلاحیتیں امریکہ کے لیے براہ راست خطرہ ہیں اور واشنگٹن ایسی جارحیت سے نمٹنے کے لیے’’تمام ضروری اقدامات ‘‘ کرے گا۔ٹلرسن نے کہا کہ حقیقت میں ایسے خطرہ کی صورت میں ردعمل نہ کرنا کسی بھی ملک کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔وزیر خارجہ نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کہا کہ “ہم اس بارے میں واضح ہیں کہ اپنے ملک کے دفاع کے لیے تمام راستے موجود ہیں‘لیکن ہم شمالی کوریا سے کوئی جنگ نہیں چاہتے۔ٹلرسن نے جاپان کی طرف سے شمالی کوریا کے جوہری پھیلاؤ سے متعلق بلائے جانے والے اجلاس میں یہ بات کی۔انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ شمالی کوریا کی جارحیت کیخلاف اپنے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا لیکن ہماری توقعات یہی ہیں کہ سفارت کاری سے اس مسئلے کا حل تلاش کر لیا جائے گا۔ دوسری طرف ہفتے کو شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں صدر ٹرمپ کے خلاف سخت الفا ظ کے ساتھ ان پر تنقید کرتے ہوئے ان کی انتظامیہ کے عہدیداروں کو تنبیہ کی گئی کہ اگر وہ رسوائی اور تباہی سے بچنا چاہتے ہیں تو انہیں دانائی سے کام لینا ہوگا۔آرٹیکل میں مزید کہا گیا کہ ٹرمپ کی حکومت نے فوجی جوابی کارروائی کی تو اس کے ردعمل میں اسے شمالی کوریا کی طرف سے سخت کارروائی کا سامنا ہو گا اور (یہ) گہری دلدل میں گر جائے گا۔صدر ٹرمپ نے روس کے صدر ولادیمر پوٹین سے فون پر ہونے والی گفتگو کے ایک روز بعد واشنگٹن میں کہا کہ روس پیانگ یانگ کے خلاف اپنے دباؤ میں اضافہ کرے۔ٹرمپ نے کہا کہ جمعرات کو پوٹین کے ساتھ ہونے والی ان کی گفتگو کا بنیادی محور شمالی کوریا تھا اور یہ بھی کہا کہ واشنگٹن کو پیانگ یانگ کے حوالے سے ماسکو کی حمایت کی ضرورت ہے۔ٹرمپ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ چین ہماری مدد کر رہا ہے۔ روس مدد نہیں کر رہا ہے۔ ہم روس کی مدد چاہتے ہیں‘جو کہ بہت اہم ہے۔جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ شمالی کوریا کے ساتھ بغیر پیشگی شرط کے بات چیت کی حمایت کرتے ہیں تو ٹرمپ نے کہا ہم یہ دیکھیں گے کہ شمالی کوریا کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ ہمیں بڑی حمایت حاصل ہے۔ بہت سار ملک ہم سے اتفاق کرتے ہیں تقریبا ً سب ہی۔سیکورٹی کونسل کے اجلاس میں امریکہ کے وزیر خارجہ نے شمالی کوریا کے ساتھ مذکرات کے دروازے کھلے رکھنے کی بات کا اعادہ کیا تاہم انہوں نے یہ تنبیہ بھی کی کہ پیانگ یانگ کو مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے کوشش کرنی ہو گی۔دباؤ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک جوہری عدم پھیلاؤ حاصل نہیں کر لیا جاتا۔اس دوران ہم بات چیت کے دروازہ کھلے رکھیں گے۔اجلاس کے بعد نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹلرسن نے منگل کو دیئے گئے اپنے اس بیان سے لاتعلقی کا اظہار کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ شمالی کوریا کے ساتھ ’’بغیر پیشگی شرائط ‘‘ کے بات چیت کے لیے تیار ہے۔علحدہ موصولہ اطلاع کے بموجب امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے ایک بار پھر اپنا یہ موقف دوہرایا ہے کہ شمالی کوریا کو مذاکراتی عمل شروع کرنے کے لیے اپنے ہتھیار سازی کے تجربات بند کرنا ہوں گے۔ انہوں نے یہ بات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک اجلاس میں کہی۔ ٹلرسن رواں ہفتے کے آغاز پر بھی امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان بغیر کسی پیشگی شرط کے براہ راست مکالمت شروع کرنے کی پیشکش کر چکے ہیں۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس خود کو ملکی وزیر خارجہ کے ان بیانات سے دور رکھتے ہوئے واضح کر چکا ہے کہ اب شمالی کوریا کے ساتھ بات چیت کا وقت نہیں ہے۔