کوالالمپور:7/مارچ (ایس او نیوز/آئی این ایس نڈیا)شمالی کوریا اور ملائشیا کے درمیان کوالالمپور کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر کِم جونگ نام کے پُراسرار قتل سے پیدا ہونے والا تنازع شدت اختیار کر گیا ہے اور شمالی کوریا نے بھی ملائشیا کے سفیر کو بے دخل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔عوامی جمہوریہ شمالی کوریا کی وزارت خارجہ نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ملائشیا کے سفیر کو ناپسندیدہ شخصیت قراردے دیا گیا ہے۔سرکاری خبررساں ایجنسی کے سی این کے مطابق سفیر کو ملک سے چلے جانے کے لیے اڑتالیس گھنٹے کا وقت دیا گیا ہے۔اس سے پہلے ملائشیا نے کوالالمپور میں متعیّن شمالی کوریا کے سفیر کانگ چول کو ناپسندیدہ شخصیت قراردے کر ملک سے چلے جانے کا حکم دیا تھا اور وہ وہاں سے واپس آگئے ہیں۔پیانگ یانگ میں متعیّن ملائشیا کے سفیر کو پہلے ہی مشاورت کے لیے ملک میں واپس طلب کر لیا گیا تھا۔دونوں ملکوں کے درمیان 13 فروری کو شمالی کوریا کے لیڈر کے سوتیلے بھائی کِم جونگ نام کی کوالالمپور میں خطرناک اعصابی گیس وی ایکس کے حملے کے نتیجے میں ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات پر تنازع چل رہا ہے۔کوالالمپور میں ملائشیا کی وزارت خارجہ نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ پیانگ یانگ میں ان کے سفیر کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے دیا گیا ہے۔وزارت کے ڈائریکٹر جنرل راجا نوشیرواں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سفارت کاری میں یہ اقدام معمول کی ایک کارروائی ہے۔شمالی کوریانے اب تک مقتول کی شناخت تسلیم نہیں کی ہے اور اس کے بجائے وہ ملائشیا پر قتل کی تحقیقات پر تند وتیز وار کررہا ہے اور اس نے مقتول کے دوبارہ پوسٹ مارٹم (طبی ملاحظے) کا بھی مطالبہ کیا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ ملائشیا اس کے دشمنوں کے کہنے میں آ گیا ہے۔ہوائی اڈے کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو عورتیں پینتالیس سالہ مقتول کے چہرے کے قریب ایک کپڑا لا رہی ہیں اور اس کو کچھ سونگھا رہی ہیں۔ ملائشین پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول پر اعصابی گیس وی ایکس سے حملہ کیا گیا تھا۔وہ اس تیز زہریلی گیس کے نتیجے میں بیس منٹ سے بھی کم وقت میں موت کی آغوش میں چلا گیا تھا۔پولیس نے ان دونوں عورتوں کو حراست میں لے رکھا ہے۔ان میں ایک ویت نامی اور ایک انڈونیشی ہے۔ان پر قتل کے واقعے میں ملوث ہونے پر فرد الزام عاید کردی گئی ہے جبکہ پولیس شمالی کوریا سے تعلق رکھنے والے سات مشتبہ ملزموں کی تلاش میں ہے۔ان میں سے چار واقعے کے روز ہی ملک سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ملائشین پولیس نے گذشتہ ہفتے گرفتار کیے گئے واحد کورین شہری کو رہا کردیا تھا اور کہا تھا کہ اس کو اس شخص کے واقعیمیں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ دریں اثناء جنوبی کوریا نے بھی پیانگ یانگ کی حکومت پر کِم جونگ نام کے قتل کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ ان نے اپنے جلاوطن سوتیلے بھائی کے قتل کا حکم جاری کررکھا تھا۔اطالوی ساحلی محافظوں کے مطابق بحیرہ روم میں بھٹکنے والے تیرہ سو مہاجرین کو ریسکیو کشتیوں کی مدد سے ویک اینڈ پر سسلی کے جزیرے پہنچایا گیا ہے جبکہ اسی دوران ایک سولہ سالہ لڑکا کشتی میں ہی ہلاک ہو گیا۔خبر رساں ادارے روئٹرز نے اطالوی ساحلی محافظوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ ویک اینڈ پر تقریبا تیرہ سو مزید مہاجرین کو سسلی کے جزیرے پر لایا گیا ہے۔ یہ مہاجرین شمالی افریقہ سے کشتیوں پر سوار ہو کر خطرناک سمندری راستہ طے کرتے ہوئے اٹلی پہنچنے کی کوشش میں تھے۔ ماضی میں اس سمندری راستے کو طے کرنے کی کوشش میں سینکڑوں مہاجرین سمندر برد بھی ہو چکے ہیں۔