نئی دہلی 31/اکتوبر (ایس او نیوز/ ایجنسیاں) مدھیہ پردیش پولیس اور ایس ٹی ایف کی مشترکہ کارروائی میں کئے گئے انکاؤنٹر میں جیل سے فرار آٹھوں سیمی کے دہشت گردوں کو مار گرانے کے بعد تین ویڈیو کلپس سوشیل میڈیا میں تیزی کے ساتھ گردش کررہی ہے جس کی بنیاد پر انکاؤنٹر کی حقیقت پر سوال اٹھنے لگے ہیں. ویڈیو کلپس کئی نیوز چینلس میں دکھایا جارہا ہے.
وڈیو کو دیکھنے کے بعد ہرکوئی اس انکائونٹر پر سوالات کھڑے کررہے ہیں۔ کانگریس نے مدھیہ پردیش حکومت کو گھیرنا شروع کر دیا ہے. اس کا کہنا ہے کہ غیر مسلح دہشت گردوں کو آسانی سے گرفتار کیا جا سکتا تھا لیکن انہیں مار گرایا گیا. کانگریسی لیڈر مانک اگروال نے تو سیدھا الزام لگایا ہے کہ جیل سے فرار ہونے میں بھی حکومت کا ہاتھ ہے. اب اس معاملے میں بہت سے سوالات اٹھنے لگے ہیں. سب سے پہلا کہ جیل سے فرار ہونے کے 8 گھنٹے کے بعد بھی تمام دہشت گرد ایک ساتھ ایک ہی جگہ پر کس طرح مل گئے؟ اور اگر ان کو گرفتار کیا جا سکتا تھا تو پھر مارا کیوں گیا. تیسرا اگر یہ واقعی انکاؤنٹر تھا تو دہشت گردوں کے سر میں گولی کیوں ماری گئی؟ فی الحال مدھیہ پردیش حکومت نے پورے معاملے کی تفتیش این آئی اے سے کروانے کا فیصلہ کیا ہے.
اس پر مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ کا بیان بھی آ گیا ہے. ان کا کہنا ہے کہ گولی مارنے کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں تھا. ویڈیو کے سوال پر انہوں نے کہا کہ تصادم میں پولیس کے پاس کوئی راستہ نہیں ہوتا. باقی این آئی اے اس معاملے کی پوری جانچ کرے گی.
آج دوپہر خبر ملی تھی کہ پولیس نے ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے بھوپال مرکزی جیل سے فرار سیمی کے تمام 8 دہشت گردوں کو مار گرایا ہے.جبکہ بتایا گیا تھا کہ رات قریب 2.30 بجے یہ تمام دہشت گرد ایک کانسٹیبل کا قتل کر فرار ہو گئے تھے. صبح سے ہی انتظامیہ کی لاپرواہی کی لعنت کی جا رہی تھی. لیکن پھر خبرآئی کہ دوپہر میں تمام 8 دہشت گردوں کو پولیس نے تصادم میں ڈھیر کر دیا. بتایا گیا کہ یہ ایک جوائنٹ آپریشن تھا جسے پولیس اور ایس ٹی ایف نے مل کر چلایا. یہ بات بھی بتایا گیا کہ دہشت گردوں نے بھی گولیاں چلائی لیکن زیادہ دیر تک وہ ٹک نہیں پائے اور جوانوں نے انہیں ڈھیر کر دیا.