ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سیمی قیدیوں کے جیل سے فرارہونے اورمارے جانے کے درمیان اٹھےمزید کئی اہم سوالات

سیمی قیدیوں کے جیل سے فرارہونے اورمارے جانے کے درمیان اٹھےمزید کئی اہم سوالات

Wed, 02 Nov 2016 04:59:48    S.O. News Service

بھوپال دہلی یکم نومبر(آئی این ایس انڈیا/ ایس او نیوز) بھوپال میں جیل توڑ کرمبینہ طورپرفرار ہوئے سیمی کے آٹھ قیدیوں کے تصادم کو لے کر کئی سوال اٹھ رہے ہیں۔قیدیوں کے فرارہونے، ان کے ہتھیارتک پہنچنے اور وہاں مارے جانے کے درمیان بہت سے سوالات ہیں اور حیران کرنے والے حالات ہیں۔ دراصل بھوپال مرکزی جیل سے تقریباََ 12کلومیٹر دور اس پٹھاری علاقے میں پیر کی صبح ہوئے مبینہ تصادم پرسوال اٹھانے والے ویڈیوز ایک کے بعد ایک سامنے آ رہے ہیں۔ان ویڈیوز میں کہیں پولیس، فرار قیدیوں کو گھیرتے ہوئے نظر آ رہی ہے، کہیں ان پر فائر کرتے ہوئے اور کہیں ان کی جیب سے ہتھیار نکالتے ہوئے نظرآرہی ہے۔یہ کہیں نظرنہیں آ رہا ہے کہ یہاں تصادم کے حالات تھے۔عینی شاہدین سے بھی اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو رہی ہے۔اجے اہروال جو کہ ایک عینی شاہد ہے،نے این ڈی ٹی وی کوبتایاکہ کہ وہ پتھر پھینک رہے تھے جب گاؤں والوں نے انہیں گھیرلیااورپولیس کواطلاع دی۔کئی گاؤں والوں نے ویڈیو بھی بنائے۔ویسے ان ویڈیوز کے علاوہ بھی اتوار کی رات 2-3بجے سے شروع ہوکر پیر کی صبح تک جاری رہی اس کہانی میں کئی سوال ہیں۔

بھوپال کی انتہائی محفوظ مانی جانے والی مرکزی جیل سے 8قیدی ایک ساتھ کس طرح فرار ہو گئے؟۔
ان کی نگرانی کے لئے تعینات ایس اے ایف کے لوگ اتوار کی رات کیوں نہیں تھے؟۔
ان کی سیل میں لگے 4 سی سی ٹی وی کیمرے کیوں نہیں کام کر رہے تھے؟۔
ان کے پاس اتنے ہتھیار کہاں سے آ گئے، جتنے پولیس بتا رہی ہے؟۔
فرارہونے کے بعد اتنے گھنٹوں میں وہ ایک ساتھ جمع ہوکرصرف 12کلومیٹر دور کیسے پہنچ پائے؟۔

ان کے علاوہ کئی اہم سوالات بھی سوشل میڈیاپرگردش کررہے ہیں۔جیل حکام سے لے کر جیل وزیر تک سب کے پاس صرف ایک ہی جواب ہے۔ان سب کی تحقیقات ہو رہی ہیں۔جیل وزیرکسم مہیدیلے نے کہا کہ سارے پہلو تحقیقات کے دائرے میں ہیں۔ مگر تصادم کی حقیقت پر سوال بڑھتے جا رہے ہیں جبکہ وزیراعلیٰ سے لے کر مرکزی وزیر تک ملک کی حفاظت کا حوالہ دے رہے ہیں۔ ان سب کے درمیان ریاستی حکومت نے صاف کر دیا ہے کہ این آئی اے کی تحقیقات کا سامنا نہیں ہوگا،قیدیوں کی فرارہونے پرتوجہ مرکوز ہوگی۔ مدھیہ پردیش کے وزیرداخلہ بھوپندر سنگھ نے کہا کہ معاملہ قومی تفیتیشی ایجنسی کودیاجا چکا ہے۔اب یہ تحقیقات سے ہی سامنے آئے گا کہ فراری اورمارے جانے کے درمیان کن کن لوگوں نے کیاکیاکردار ادا کیا۔
 


Share: