نئی دہلی، 5 ؍ستمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا ) سپریم کورٹ آج دہلی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف دہلی حکومت کی 6 اپیلوں پر سماعت کرنے کے لیے تیار ہو گیاہے جس میں یہ کہا گیا تھا کہ لیفٹیننٹ گورنر ہی قومی دارالحکومت کے انتظامی سربراہ ہیں۔عدالت عظمی ان اپیلوں پر 9 ؍ستمبر کو سماعت کرے گا۔چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر اور جسٹس ڈی وائی چند رچوڑ کی بنچ نے کہاکہ انہیں جمعہ کو سماعت کے لیے آنے دیجئے۔بنچ نے یہ بات اس وقت کہی جب دہلی حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل گوپال سبرامنیم نے ان درخواستوں پر فوری سماعت کی اپیل کی ۔سبرامنیم نے کہاکہ دہلی ہائی کورٹ کے 4 ؍اگست کے فیصلے سے دہلی میں ایک عجیب وغریب صورت حال پیدا ہو گئی ہے جس نے فیصلہ دیا تھا کہ منتخبہ حکومت کو تمام فیصلوں کے لیے لیفٹیننٹ گورنر سے پیشگی منظوری لینی ہوگی۔دہلی حکومت نے 2 ؍ستمبر کو سپریم کورٹ کو مطلع کیا تھا کہ اس نے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے لیے 6 الگ الگ درخواست دائر کی ہے ۔اس کے ساتھ ہی اس نے دہلی کو مکمل ریاست کا اعلان کرنے کا مطالبہ کرنے والی اپنی دیوانی درخواست کوبھی واپس لے لیا تھا۔کورٹ نے آپ حکومت کو دیوانی درخواست واپس لینے کی اجازت اور اس میں اٹھائے گئے موضوعات کو اس کی طرف سے دائر کی گئی خصوصی اجازت درخواستوں میں اٹھانے کی آزادی دے دی تھی۔عدالت عظمی نے گزشتہ ماہ آپ حکومت سے پوچھا تھا کہ کیا وہ دہلی کو مرکز کے زیر انتظام ریاست بتانے اور لیفٹیننٹ گورنر کو اس کا انتظامی سربراہ قراردینے کے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کرے گی، اگر ہاں تو کب تک؟۔اس نے کہا تھا کہ دہلی حکومت کو خصوصی اجازت درخواست دائر کرنے کی ضرورت ہے اور دیوانی درخواست غیر موثر ہو جائے گی ۔مرکز نے دہلی حکومت کی درخواست کی پرزور مخالفت کی۔اس سے قبل، ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ آئین کے تحت دہلی مرکز کے زیر انتظام علاقہ اور لیفٹیننٹ گورنر اس کے انتظامی سربراہ بنے رہیں گے۔ہائی کورٹ نے 4 ؍اگست کے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ دہلی سے متعلق خصوصی آئینی شق آرٹیکل 239اے اے کو آرٹیکل 239کے اثرات کو کمزور نہیں کرنا چاہیے جومرکز کے زیر انتظام علاقے سے متعلق ہے اور اس وجہ سے انتظامی معاملات میں لیفٹیننٹ گورنر کی رضامندی ضروری ہے۔اس نے آپ حکومت کی اس دلیل کو قبول نہیں کیا تھا کہ آرٹیکل 239اے اے کے تحت دہلی اسمبلی کی طرف سے قانون بنانے کے سلسلے میں لیفٹیننٹ گورنر صرف وزیر اعلی اور ان کی کابینہ کی مدد اور مشورہ پر کام کرنے کے لیے پابند ہیں۔عدالت نے کہا تھا کہ اس میں کوئی دم نہیں ہے۔دہلی ہائی کورٹ نے دہلی حکومت کی تقریبا تمام دلیلوں کو مسترد کر دیا تھا، لیکن اس کی اس بات پر رضامندی ظاہر کی تھی کہ لیفٹیننٹ گورنر کو خصوصی پبلک پراسکیوٹروں کی تقرری کے معاملے میں حکومت کی مدد اور مشورہ پر کام کرنا ہوگا۔