نئی دہلی:07/جولائی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)دنیا کے کئی ممالک میں کھیلوں میں سٹے بازی کی وجہ سے بہت سے کھلاڑی بدنام ہو چکے ہیں۔کئی کا کیریئر بھی خراب ہوا ہے۔سٹے بازی سے کھیل کے معیار پر اثر پڑتا ہے۔پیسے کی لالچ میں کھلاڑی سٹے بازوں کے چنگل میں پھنستے ہیں جس سے کھیل کا مزہ خراب ہوتا ہے۔اس کے باوجود لا کمیشن نے اس بات کی سفارش کی ہے کہ کرکٹ سمیت دوسرے سبھی کھیلوں میں سٹے بازی کو جائز قرار دے دیا جائے۔کمال کی بات یہ ہے کہ ایک طرف جہاں لا کمیشن نے سٹے بازی کو جائز کئے جانے کی سفارش کی ہے وہیں اس نے اس بات کی سفارش کی ہے کہ کھیلوں میں ہونے والے گھوٹالے اور میچ فکسنگ کو جرم کے زمرے میں رکھا جائے۔سٹے بازی اس لئے ہوتی ہے کہ اس سے پیسے کمائے جائیں۔ایک سٹے باز زیادہ سے زیادہ پیسے کمانے کے لئے کوئی بھی حربہ استعمال کرنے کی سوچے گا جس میں کھلاڑیوں کو پیسے دے کر انہیں ضرورت کے حساب سے اچھی یا خراب کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی بات شامل ہے۔اگر کوئی کھلاڑی ایسا کرتا ہے تو یہی میچ فکسنگ یا اسپاٹ فکسنگ کہلاتا ہے۔اگرکھیلوں میں خاص طور پر کرکٹ میں میچ فکسنگ یا اسپاٹ فکسنگ جیسی برائیوں کو روکنا ہے تو سٹے بازی کو بھی جرم کے زمرے میں ہی رکھا جانا چاہئے۔ایک طرف جہاں سٹے بازی کو لیگل کرنے کی سفارش کی گئی ہے وہیں ایک اچھی خبر یہ ہے کہ بال ٹیمپرنگ میں شامل کھلاڑیوں کو مزید سخت سزا دینے کا پلان کیا جا رہا ہے۔آئی سی سی کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بال ٹیمپرنگ کے تعلق سے قانون کو اور بھی سخت کیا جائے گا۔اب اگر کوئی کھلاڑی یہ جرم کرتا پایا جاتا ہے تو اس پر 6ٹسٹ میچ یا12ون ڈے میچوں کی پابندی لگائی جائے گی۔کرکٹ کو شریفوں کا کھیل کہا جاتاہے اور یہ کھیل شریفوں کا ہی بنا رہے اس کے لئے آئی سی سی نے فیصلہ لیا ہے کہ اگر میدان پر کوئی کھلاڑی نازیبا الفاظ کا استعمال کرتا ہے یا کسی کھلاڑی کے خلاف جملے کستا ہے تو اسے بھی جرم مانا جائے گا اور اس میں شامل کھلاڑیوں کو بھی سخت سزا ملے گی۔