مینگلور20/ستمبر (ایس او نیوز) قریبی تعلقہ سولیا میں وشواہندو پریشد کی جانب سے تبدیلی مذہب کی مخالفت کرتے ہوئے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا اوراس بات کا الزام لگایا کہ پچھلے کچھ دنوں میں اس علاقے کے تین غیر مسلموں نے تبدیلیئ مذہب کرتے ہوئے دین اسلام اختیار کرلیا ہے۔ مذہب تبدیل کرنے کا یہ رجحان ہندو تنظیموں کے لئے مسلمانوں کے خلاف نیا محاذ کھولنے کا سبب بن گیا ہے۔جس کے نام پر احتجاج کا سلسلہ چل پڑا ہے۔
حالیہ واقعے میں ایک نوجوان نے بنگلورو میں ایک مسلمان کے پاس نوکری کرتے ہوئے مبینہ طور پر اسلام قبول کرلیا تھا۔ اس کے خلاف چھوٹے پیمانے پرکچھ دنوں پہلے احتجاج ہوا تھا اور پھرہندتواوادی تنظیموں کے دباؤ پراس کے گھر والوں نے اسے علاج کے بہانے شہر لاکر اسپتال میں داخل کردیاتھا۔ دو چار روز قبل وہ جب اسپتال سے کار میں فرار ہونے لگا تو ہندتووادی تنظیموں کے کارکنوں نے اس کا پیچھا کرکے بری طرح پیٹائی کی اور اسے زخمی حالت میں پھر سے اسپتال میں داخل کیا گیا۔
ہمت ہےتو سامنے سے مقابلہ کرو: اسی پس منظر میں اب تبدیلیئ مذہب کے خلاف ہندوؤں کی متحدہ طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے وشوا ہندو پریشد کے پرچم تلے سولیا کے چنّا کیشو مندر کے سامنے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔جس میں تبدیلیئ مذہب کے علاوہ لوجہاداوردہشت گردی کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے ہندوؤں کو متحد ہونے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لئے اکسایا گیا۔ وی ایچ پی اور دیگر ہندو تنظیموں کے بڑے بڑے لیڈروں اور کارکنوں کی موجودگی میں اس احتجاجی ریالی سے خطاب کرتے ہوئے آر ایس ایس کے لیڈر کلاڈ کا پربھاکر بھٹ نے تبدیلیئ مذہب کی کارروائی انجام دینے والوں کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ وہ چوری چھپے حملے کرنے کے بجائے اگر ہمت ہے تو آمنے سامنے مقابلے کے لئے آجائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہزار سال کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اس طرح کے حملوں کو اپنے قدموں سے روندتے ہوئے سینہ تان کراس دیش کے ہندو کھڑے ہیں۔آج کا یہ احتجاجی مظاہرہ اس بات کا اعلان ہے کہ اگر ہندوطرز زندگی اور تہذیب کو کوئی نقصان پہنچائے گا توہندو اسے کسی طور برداشت نہیں کریں گے۔اور اس دیش کو پاکستان بنانے کی کوشش کرنے والوں کومنہ توڑ جواب دینے کے لئے ہندوستان سماج پوری طرح تیار ہے۔
ہندوؤں کی مہربانی کو کمزوری نہ سمجھو: بھٹ نے مزید کہا کہ جنوبی کینرا میں سولیا جیسے چھوٹے سے مقام سے اٹھنے والی یہ آواز پورے ملک کے لئے ایک پیغام ہے۔ شانتی کے نام پر ہندوؤں کے ساتھ دھوکہ کیا گیا ہے۔ہندوسماج کے لوگ اپنے تحفظ کے لئے کسی بھی کیس یا جیل میں قید ہونے سے نہیں گھبراتے ہیں۔ لوجہاد، دہشت گردی اور تبدیلیئ مذہب کی مخالفت میں ہندوؤں کی طرف سے جدوجہد مسلسل جاری رہے گی۔انہوں نے کہا کہ اس دیش کی سرزمین پر ہندوؤں نے مسلمانوں اور عیسائیوں کواپنی عبادت گاہیں تعمیرکرنے کا موقع دیا ہے۔ مگر ہماری اپنی سرزمین پر رہتے ہوئے یہ لوگ دیش مخالف سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں۔ اس کو برداشت کرنا صحیح نہیں ہے۔دراصل یہ ہندوؤں کی مہربانیاں ہیں جسے ان کی کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے۔اس لئے انہوں نے اپیل کی کہ ہندو سماج کواس کے خلاف ڈٹ کر کھڑاہونا ہوگا۔
چھیڑو گے تو انجام براہوگا: آر ایس ایس منگلورو زون کے ذمہ دار سیتارام نے تنبیہہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہندوؤں کو چھیڑا جائے گا تو پھر انجام بہت برا ہوگا۔انہوں نے اس زبردست اور بے مثال احتجاج میں تعاون کرنے والے ہندو نوجوانوں، رکشہ مالکان اور ڈرائیورس اور ٹورسٹ بس ڈرائیوروں اور مالکان کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ دیش کے غداروں کو جواب دینے والا یہ احتجاج ایک اشارہ ہے۔آئندہ لو جہاد، تبدیلیئ مذہب اور دہشت گردی کے خلاف ہندوؤں کی متحدہ جد وجہد جاری رہے گی۔انہوں نے سوال کیا کہ ہندوؤں کے مفادمیں اگر بولیں تو فرقہ پرستی قرار دینے والے دانشور اس دیش میں ہونے والے تبدیلیئ مذہب کے خلاف کیوں نہیں بولتے؟
فوجیوں کو شردھانجلی: اس اجلاس کے آغاز سے پہلے جموں و کشمیر کے اوری میں دہشت گردانہ حملے میں مارے گئے 17فوجی جوانوں کے اعزاز میں خاموش کھڑے ہوکر شردھانجلی دی گئی۔پولیس کی طرف سے اجلاس کی کارروائی ویڈیو ریکارڈنگ کرنے کے لئے ڈرون کیمرے کا استعمال کیا گیا تھا۔ ایک مرحلے پر آدھا کلو گرام ڈرون کیمرہ توازن کھونے کی وجہ سے پچاس فٹ کی اونچائی سے زمین پر آگرا، لیکن اس سے کسی کو چوٹ نہیں آئی۔اسٹیج پر وی ایچ پی کے گنپتی بھٹ، ایچ جے وی کے جینت وغیرہ موجود تھے۔