نئی دہلی 2/فروری (ایس او نیوز/ایجنسی) کاس گنج تشدد کو لے کر سماج وادی پارٹی نے جمعہ کو پارلیمنٹ میں ہنگامہ برپا کیا. ایس پی کے رکن اسمبلی رام گوپال یادو نے کہا کہ کاس گنج میں مسلمانوں پر زیادتیاں ہورہی ہیں، اُن کے گھروں کو نقصان پہنچایا جارہا ہے۔ان کے بیان پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ برپا ہوگیا ، جس کی وجہ سے اسمبلی کی کاروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کرنی پڑی، اس درمیان اسمبلی سے باہر رام گوپال یادو نے سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ کاس گنج میں ہندئوں کو ہندوئوں نے ہی مارا ہے اور مسلمانوں پر الزامات عائد کئے جارہے ہیں ۔
رام گوپال یادو نے کہا کہ کاس گنج میں 'مسلم لوگوں کے گھروں میں گھس کر مار پیٹ کی جارہی ہے. جھوٹے الزامات لگا کر لوگوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے، ان کی پراپرٹی کو تباہ کیا جارہا ہے آگ لگائی جا رہی ہے اور سب کچھ پولیس کی سربراہی میں کیا جارہا ہے ان کے مطابق پولس کے سامنے مسلمانوں کی املاک کو تباہ وبرباد کیا جارہا ہے اور اُن کے گھروں اور دکانوں کو آگ لگائی جارہی ہے، مگر کوئی کچھ نہیں کہہ رہا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ جن بے قصورلوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے، ان کو رہا کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ واقعی میں قصوروار ہیں، جنہوں نے گولی چلائی ہے، اُن سب کی ویڈیو سوشیل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے، سب کو معلوم ہے کہ کون کس کو ماررہا ہے اور وڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ہندو ہی ہندو کو مار رہے ہیں اور مسلمانوں کو پھنسا کر اُن کے خلاف معاملات درج کئے جارہے ہیں۔انہوں نے اس بات کا بھی دعویٰ کیا کہ جن تین بھائیوں کے خلاف گولی چلانے کا کیس درج کیا گیا ہے اُنہیں صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے پھنسایا گیا ہے۔
واضح رہے کہ کاس گنج میں 26 جنوری کو ہوئے فرقہ وارانہ تشدد میں ابھیشک گُپتا عرف چند ن کی گولی لگنے سے موت واقع ہوگئی تھی اس کے بعد وہاں کئی گاڑیوں کو نذر آتش کردیا گیا تھا۔ تشدد کے دوران کچھ مذہبی مقامات کو بھی نقصان پہنچایا گیا تھا۔ چندن گپتا کے قتل کے معاملے میں گرفتار اہم ملزم سلیم کوآج جمعہ کے روز عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں اُسے 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا. سلیم کو ہائی سیکورٹی جیل میں رکھا گیا ہے. اس سے قبل بدھ کو ایس ٹی ایف اور پولیس ٹیموں نے سلیم سے پوچھ تاچھ کی اور قتل میں استعمال ہونے والی پستول کو برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ پوچھ تاچھ کے بعد فرار شدہ سلیم کے بھائی وسیم اور نسیم پر بھی شکنجا کسا گیا ہے.
کاس گنج میں بھڑکے فرقہ وارانہ تشدد پر اُترپردیش سرکار نے مرکزی حکومت کو رپورٹ بھیج دی ہے. اُترپردیش سرکار نے تشدد کے جھڑپوں اور اس میں مارے گئے ایک جوان کے ساتھ ساتھ تشدد روکنے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کی بھی جانکاری دی ہے۔
قبل ازیں پارلیمنٹ میں آج اپوزیشن کانگریس سمیت تقریبا سبھی پارٹیوں نے کاس گنج معاملہ میں اپنی آواز بلند کی اور اُترپردیش حکومت کے خلاف اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا۔ اپوزیشن پر الزام عائد کیا گیا کہ یوپی حکومت فساد پھیلانے کا کام کررہی ہے۔ اس معاملے کو اُٹھاتے ہوئے سماج وادی پارٹی نے حکومت سے جواب طلب کیا اور کہا کہ راجیہ سبھا کو اس پر جواب طلب کرنا چاہئے۔جب راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیرمین پی جے کورین نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو اس معاملے میں نوٹس دینا چاہئے تاکہ حکومت جواب دے سکے، وہ براہ راست حکومت سے نہیں کہہ سکتے کہ اس معاملے میں اپنا موقف ظاہر کرے۔ اس کے بعد پارلیمنٹ میں ہنگامہ شروع ہوگیا اور نعرے بازی کی گئی، جس کے بعدکورین نے ایوان کی کاروائی ایک مرتبہ پھر ملتوی کردی۔