ریاض؍انقرہ،30؍ستمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)حالیہ چند برسوں کے دوران سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دو طرفہ تجارت کیفروغ اور اقتصادی شعبے میں کئی معاہدے طے پائے ہیں جس کے نیتجے میں دو طرفہ تجارت میں بھی غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ دو طرفہ تجارتی حجم 8ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے جب کہ توقع ہے کہ پیش آئند چند برسوں میں ترکی اور سعودی عرب میں تجارتی حجم 20ارب ڈالر تک جا پہنچے گا۔ سعودی عرب کی حکومت نے ویژن 2030ء کے تجارتی اہداف پورے کرنے کے لیے ترکی سمیت تمام دوست ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدوں کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تیل کے محصولات پر کم سے کم انحصار کرتے ہوئے تجارت کے متبادل ذرائع اختیار کیے جا رہے ہیں۔ سنہ 2030ء تک ترکی اور سعودی عرب کیدرمیان تجارتی حجم 2 کھرب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ دونوں ملکوں کیدرمیان باہمی سرمایہ کاری کے فروغ کی رفتار سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ دونوں ملک آنے والے چند برسوں میں وسیع پیمانے پر ایک دوسرے کے تجارتی پارٹنر بن جائیں گے۔
سعودی عرب کی وزارت صنعت وتجارت کی جانب سے جاری کردہ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ترکی اور سعودی عرب کے در میں مجموعی طور پر 159تجارتی معاہدے روبہ عمل ہیں۔ ان میں 41صنعتی پروجیکٹ اور 118غیر صنعتی منصوبے شامل ہیں۔سعودی عرب ترکی کے لیے خلیجی ممالک میں رئیل اسٹیٹ اور سیاحت کے حوالے سے سب سے اہم ملک سمجھا جاتا ہے۔ ترکی میں مختلف منصوبوں پرسعودی عرب کی 800کمپنیاں کام کررہی ہیں۔ ترکی میں سعودی عرب کی سرمایہ کاری میں غیر معمولی اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔ خاص طور پر ترکی سیاحت کے میدان میں سعودی سرمایہ کاروں پر اعتماد کا اظہار کرتا ہے۔ترکی کے سرکاری اعدادو شمار کے مطابق ترکی میں خلیجی ممالک کی سرمایہ کاری کے منافع کا حجم 6 ارب ڈالر سے متجاوز ہے۔ اسی طرح سعودی عرب میں ترکی کی 200کمپنیاں کام کررہی ہیں جنہوں نے 17ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کررکھی ہے۔ سعودی عرب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں پیشہ وارانہ خدمات انجام دینے والے ترک شہریوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔