صنعاء 13؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)سعودی عرب نے ہمسایہ ملک یمن میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں کی گزشتہ 18ماہ سے جاری فضائی ناکہ بندی میں نرمی کا اعلان کیا ہے، تاکہ اختتام ہفتہ پر بمباری کا نشانہ بننے والے سینکڑوں زخمیوں کو وہاں سے نکالا جا سکے۔ہفتہ آٹھ اکتوبر کو یمنی دارالحکومت صنعاء میں ایک باغی رہنما کے والد کے جنازے کے لیے جمع افراد پر شدید بمباری کے نتیجے میں 140 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ سعودی اتحادیوں کی اس بمباری کی دنیا بھر مذمت کی گئی تھی جس میں ریاض حکومت کا اتحادی واشنگٹن بھی شامل تھا۔اقوام متحدہ کے مطابق اس فضائی حملے کے نتیجے میں زخمیوں کی تعداد 525 سے زائد تھی۔ سعودی قیادت میں مارچ 2015ء میں یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف شروع کیے جانے والے حملوں میں یہ اب تک کا خونریز ترین حملہ تھا۔ باغیوں کے کنٹرول میں موجود دارالحکومت صنعاء کے محکمہ صحت کے ترجمان تمیم الشمسی نے اتوار کے روز کہا تھا کہ اس حملے کا نشانہ بننے والے 300 سے زائد افراد شدید زخمی ہیں اور انہیں علاج معالجے کے لیے ملک سے باہر بھیجے جانے کی ضرورت ہے۔سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق سعودی شاہ سلمان نے حکام کو احکامات دیے کہ وہ زخمیوں اور ایسے افراد کو جنہیں بیرون ملک علاج معالجے کی ضرورت ہے ان کو یمن سے نکالنے کے لیے سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت اور اتحادیوں کے ساتھ تعاون کریں۔سعودی اتحاد نے اپنے فضائی حملوں کے آغاز کے بعد سے اب تک باغیوں کے زیر قبضہ یمنی علاقوں کی فضائی اور سمندری ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ اس ناکہ بندی میں صرف اقوام متحدہ کی پروازوں اور اقوام متحدہ کی زیر نگرانی امدادی سامان پہنچانے والے بحری جہازوں کو استثنیٰ حاصل ہے جو زیادہ تر بحیرہ احمر پر موجود بندرگاہ الحدیدہ کے ذریعے پہنچتی ہے۔ایک باغی رہنما کے والد کے جنازے کے لیے جمع افراد پر شدید بمباری کے نتیجے میں 140 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔باغیوں کے کنٹرول میں کام کرنے والی یمنی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے منگل 11 اکتوبر کو اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ سینکڑوں زخمیوں کی جان بچانے کے لیے صنعاء ایئرپورٹ کی ناکہ بندی کے خاتمے کے لیے فوری اور سنجیدگی سے عمل کرے۔سعودی اتحادیوں کی طرف سے ابتدا میں اس فضائی حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دیا گیا تھا تاہم مغربی ممالک کی طرف سے اس حملے کی مذمت کے بعد اس کی تحقیقات کرانے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اتوار نو اکتوبر کواقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کو لکھے گئے ایک خط میں سعودی عرب کی طرف سے اس حملے پر شدید افسوس کا اظہار کیا گیا تھا۔سعودی عرب اور اتحادیوں کی طرف سے یمن میں گزشتہ برس مارچ سے جاری بمباری پر عالمی سطح پر تنقید کی جا رہی ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں اب تک 6800سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ان میں سے دو تہائی تعداد عام شہریوں کی ہے جو اتحادیوں کی بمباری کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔چین سے یورپ تک ایکسپریس ریل رابطے، بیجنگ کی تیاریوں میں تیزیچین کے ریاستی منصوبہ بندی کمیشن نے ایک ایسا پانچ سالہ منصوبہ تیار کیا ہے، جس کے تحت ملک کے تیز رفتار ریلوے رابطوں کو توسیع دے کر یورپ تک پھیلا دیا جائے گا۔ یہ منفرد منصوبہ چین کی ون بیلٹ، ون روڈ پالیسی کا حصہ ہے۔چین میں شنگھائی سے بدھ بارہ اکتوبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ بیجنگ میں سرکاری منصوبہ سازوں کے مطابق اس پلاننگ کے تحت چائنہ ایکسپریس ریلوے کو کسٹمز کلیئرنس اور بنیادی ڈھانچوں کے شعبوں میں مزید ترقی دیتے ہوئے اس کا دائرہ کار یورپ تک پھیلا دیا جائے گا۔بیجنگ حکومت کے 2016ء سے لے کر 2020ء تک کے منصوبہ بندی پروگرام کے مطابق یہ منصوبہ چین کی ون بیلٹ، ون روڈ نامی اس پالیسی کا انتہائی اہم جزو ہے، جس کے تحت صدر شی جن پنگ اپنے ملک کے باقی ماندہ یوریشیا کے ساتھ رابطوں اور مختلف شعبوں میں تعاون میں اضافے کی مہم پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہیں۔
چین کے قومی ترقیاتی اور اصلاحاتی کمیشن (NDRC) نے آج اپنی ویب سائٹ پر بتایا کہ یہ پلان بیجنگ کے مجوزہ کوریڈورکو عمل شکل دینے سے متعلق پہلی اعلیٰ سطحی اسکیم ہی نہیں بلکہ اس منصوبے میں چینی پیداواری اور کاروباری اداروں کی دلچسپی بھی مسلسل زیادہ ہوتی جا رہی ہے کیونکہ اس طرح چین سے یورپ تک برآمدی مصنوعات کی مال برداری کے لیے درکار وقت بہت کم ہو جائے گا۔روئٹرز نے لکھا ہے کہ چین کے مختلف علاقوں کی مقامی حکومتیں ایسی 39 سے زائد ریل سروسز کا اجراء کر چکی ہیں، جن کے ذریعے مثال کے طور پر چونگ چِنگ جیسے چینی شہروں کو جرمنی، پولینڈ اور ہالینڈ میں مختلف شہروں سے جوڑا جا سکے گا۔چین نے افغانستان سے ہو کر گزرنے والی وسطی ایشیا کے لیے اپنی پہلی کارگو ترین سروس اس سال اگست میں شروع کی تھی۔اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت یہ بھی ہوئی کہ بیجنگ حکومت نے اسی سال ایسے علاقائی نیٹ ورکس کو اپنے کنٹرول میں لے لیا اور انہیں ملا کر مسافر بردار اور مال بردار ریل گاڑیوں کے ایک نئے برانڈ چائنہ ایکسپریس ریلوے کا نام دے دیا۔چین کے نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارمز کمیشن کے مطابق اس نئے نیٹ ورک کو ہوائی اور سمندری راستوں سے اس مال برداری کے متبادل نظام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا ایک بڑا منفی پہلو اس پر اٹھنے والی بے تحاشا لاگت ہے۔کمیشن کے مطابق فضائی اور سمندری راستوں سے مال برداری کے اس نظام کو طلب اور رسد میں عدم توازن کا سامنا بھی ہے اور اس حوالے سے مروجہ ریاستی ضابطوں میں بہتری کی بھی ضرورت تھی۔این ڈی آر سی کی ویب سائٹ کے مطابق چین کے اسٹیٹ پلانرز اس منصوبے کے تحت اپنی توجہ زیادہ تر تین راستوں پر مرکوز رکھیں گے، جن پر 43 ٹرانزٹ مراکز بھی قائم کیے جائیں گے اور جن راستوں پر سروسز اور انفراسٹرکچر کو بھی خاص طور پر بہتر بنایا جائے گا۔