واشنگٹن،3نومبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)خبر رساں ادارے اے ایف پی نے داعش کے رہنما ابو بکر البغدادی کے تازہ پیغام کے حوالے سے بتایا ہے کہ موصل کی لڑائی میں داعش کے جہادی کامیاب ہو جائیں گے۔ بغدادی نے مزید کہا کہ داعش کے حامی اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھیں اور دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔یہ پیغام ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے، جب امریکی فضائیہ کے تعاون سے عراقی فورسز موصل کی طرف پیشقدمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بغدادی نے اس لڑائی پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے جنگجوؤں پر زور دیا، پیچھے نہ ہٹا جائے۔ اپنی پوزیشنوں پر باعزت طریقے سے ڈٹے رہنا شرمناک طریقے سے پیچھے ہٹنے سے ہزار گنا بہتر ہو گا۔
سال رواں کے اپنے پہلے پیغام میں بغدادی نے کہا، نینوا کے تمام لوگ، بالخصوص جنگجو دشمن کا سامنا کرتے ہوئے تمام کوتاہیوں سے خبردار رہیں۔ عراقی صوبے نینوا کے دارالحکومت موصل پر یہ جہادی گروہ جون سن دو ہزار چودہ سے قابض ہیں۔اس سے قبل بغدادی کا آخری پیغام گزشتہ برس دسمبر میں منظر عام پر آیا تھا۔ تاہم حکام نے بغدادی کے اس تازہ پیغام کے درست ہونے کے بارے میں ابھی تک تصدیق نہیں کی ہے۔عراقی فورسز نے موصل کی بازیابی کا آپریشن سترہ اکتوبر کو شروع کیا تھا۔ عراقی فورسز کے مطابق اس شہر کا محاصرہ کر لیا گیا ہے جبکہ سپاہی آہستہ آہستہ شہر کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس آپریشن میں عراقی فورسز کو امریکی فضائیہ کے علاوہ مقامی ملیشیاؤں کا تعاون بھی حاصل ہے۔
بغدادی کے اس تازہ آڈیو پیغام میں کسی تاریخ کا تذکرہ نہیں کیا گیا ہے لیکن جن حالات پر تبصرہ کیا گیا ہے، وہ حالیہ ہفتوں کے دوران رونما ہو چکے ہیں۔ اس پیغام میں بغدادی نے اپنے حامیوں پر یہ زور بھی دیا کہ وہ سعودی عرب اور ترکی میں بھی اپنے حملوں کا آغاز کر دیں۔ بغدادی نے کہا کہ داعش کے ایسے حامی جو شام یا عراق نہیں جا سکتے ہیں وہ لیبیا جائیں اور اپنی کارروائیوں میں متحد رہیں۔ناقدین کا کہنا ہے کہ موصل کی بازیابی کا آپریشن انتہائی اہم ہے اور اس میں داعش کی شکست سے اس جہادی گروہ کو شدید دھچکا لگے گا۔ تاہم سکیورٹی تجزیہ نگاروں کے مطابق اس شہر کی مکمل آزادی کی کارروائی طویل ثابت ہو گی کیونکہ داعش کے جنگجوؤں نے وہاں مضبوط مورچے بنا رکھے ہیں جبکہ بارودی سرنگوں کے باعث عراقی فورسز کی پیشقدمی انتہائی سست ہو جائے گی۔