ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سرکاری افسران کو لوٹنے والی خود ساختہ اے سی بی ٹیم گرفتار

سرکاری افسران کو لوٹنے والی خود ساختہ اے سی بی ٹیم گرفتار

Wed, 07 Dec 2016 12:19:08    S.O. News Service

بنگلورو۔6؍دسمبر(ایس او نیوز) ریاستی حکومت کی طرف سے قائم انسداد کرپشن بیورو کا نام لے کر لوگوں کو لوٹنے اور انہیں دھمکانے والی ٹولی کو شہر کی پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔ چکوڈی تعلقہ کے سدلگا دیہات سے تعلق رکھنے والے مرگپا نگپا کمبار،تیرتھ ہلی کے ابوبکر اور بہار کے متوطن امر سنگھ کو فرضی اے سی بی افسران بن کر دھوکہ دینے اور سرکاری افسران کو خوفزدہ کرکے ان سے رقم لوٹنے کے اقدام پر پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔ بتایاجاتاہے کہ 25نومبر کو ہوسکوٹے میں بی ڈبلیو ایس ایس بی کے اسسٹنٹ انجینئر پرسنا کمار کو ملزم ننگپا نے خود کو اے سی بی کا ڈی وائی ایس پی پرشوتم بتایا اور کہاکہ پرسنا کمار کے خلاف بیورو کو بہت ساری شکایات موصول ہوئی ہیں اسی لئے ان کے گھر اور دفتر پر بہت جلد چھاپہ مارکر انہیں جیل بھیج دیا جائے گا۔ پرسنا کمار نے خوفزدہ ہوکر ننگپا کمبار اور ابوبکر کو طلب کیا اور انہیں 90ہزار روپے دئے یہ رقم تیسرے ملزم امر سنگھ کے بینک کھاتے میں جمع کرائی گئی۔ اس سلسلے میں پرسنا کمار نے بنشنکری پولیس تھانہ میں شکایت ردج کرائی اور تحقیقات کرنے پر پتہ چلا کہ مرگپا بلگاوی میں پولیس کانسٹبل تھا اور 16 سال خدمت انجام دینے کے بعد اسے برطرف کردیا گیا تھا۔وہ اس لئے کہ ڈیوٹی پر وہ بس وارنٹ کا غلط استعمال کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ ڈی سی پی ڈاکٹر شرنپا نے بتایاکہ برطرفی کے بعد مرگپا خود کو لوک آیوکتہ کا ایس پی قرار دے کر کئی سرکاری افسران کو ہراساں کرچکا ہے۔ ان ہراسانیوں کے سلسلے میں مرگپا کو 30سے زائد معاملات میں گرفتار کرکے کاروار کی جیل بھیج دیا گیا تھا، لیکن جیل سے بھی اس نے اپنی حرکتیں ترک نہیں کیں۔ اس کے علاوہ وہ دیگر معاملات میں بھی ملوث تھا، جیل میں اس کی ملاقات قتل ، صندل کی چوری، اسمگلنگ اور جعلی نوٹوں کے کاروبار میں ماہر امر سنگھ اور ابوبکر سے ہوئی ۔ان تینوں نے ٹولی قائم کرکے سرکاری افسران کو لوٹنے کا سلسلہ تیزی سے شروع کردیا۔ ان لوگوں نے اب تک تحصیلداروں ، انجینئروں ، سب رجسٹرار، سی ای او یہاں تک کہ ودھان سودھا کے سکریٹریوں ، آر ٹی او افسران اور محکمۂ تعلیمات کے افسران کو فون پر دھمکی دے کر ان سے خوب رقم لوٹی ہے۔امرسنگھ کے کھاتے میں خوفزدہ افسران کی طرف سے کروڑوں روپیوں کی رقم اب تک جمع کرائی جاچکی ہے۔ ایک اور ملزم ابوبکر نے ہبلی میں دماغی طور پر کمزور خاتون رکمنی کے نام پر کارپوریشن بینک میں ایک فرضی کھاتہ کھول رکھاتھا اور اس کا اے ٹی ایم کارڈ استعمال کرکے اس سے رقم نکال لیتا۔اسی خاتون کے نام پر ابوبکر نے دس موبائیل سم کارڈ حاصل کئے تھے جن ککا استعمال افسران کو دھمکانے کیلئے کرتا تھا۔ ان ملزمین کے خلاف ودھان سودھا، السور گیٹ ،کاماکشی پالیہ کے علاوہ بلگاوی ، دھارواڑ ، آلند ، کاروار ، یلبرگا ، ہولے نرسیپور، چندرائے پٹنہ ، بیلور ،مندرگی ، ہنسور، منڈگوڈ، ٹمکور، کوپہ ، کڈور، اور دیگر پولیس تھانوں میں دھوکہ دہی کے متعدد معاملات درج ہیں۔ ڈی سی پی ڈاکٹر شرن نے بتایاکہ بے نقاب ہوجانے کے خوف سے بہت سارے افسران نے اس ٹولی کے خلاف شکایت نہیں کی ہے۔ بنشنکری پولیس تھانہ کے انسپکٹر ٹی ٹی کرشن اور ماتحتوں نے اس ٹولی کو گرفتا رکرلیا ہے۔
 


Share: