ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سرکاری اسکیموں کے نفاذاور راحت کاری میں تساہل ناقابل برداشت،مرکزی حکومت کی طرف سے کرناٹک کو ابھی کوئی رقم نہیں ملی: سدرامیا

سرکاری اسکیموں کے نفاذاور راحت کاری میں تساہل ناقابل برداشت،مرکزی حکومت کی طرف سے کرناٹک کو ابھی کوئی رقم نہیں ملی: سدرامیا

Tue, 31 Jan 2017 10:39:33    S.O. News Service

بنگلورو،30؍جنوری(ایس اونیوز) خشک سالی سے نمٹنے کیلئے راحت کاری اقدامات اور حکومت کی فلاحی اسکیموں کو عوام تک پہنچانے میں سرکاری افسران کی طرف سے لاپرواہی اور تساہل قطعاً برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ایسا رویہ اپنانے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ یہ تنبیہہ آج وزیراعلیٰ سدرامیا نے کی۔ ودھان سودھا کے کانفرنس ہال میں تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں اور ضلع پنچایت چیف ایگزی کیٹیو افسران کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سدر امیا نے کہاکہ صرف رشوت لینا ہی کرپشن کے زمرے میں نہیںآتا، بلکہ سرکاری اسکیموں کو بروقت مستحقین تک پہنچانے کی ذمہ داری میں لاپرواہی بھی کرپشن کی ایک قسم ہے۔ لاپرواہی کا رویہ اپنانے والے افسر ان اپنی اس حرکت کے ذمہ دار خود ہوں گے۔ سدرامیا نے کہاکہ ریاست میں سنگین خشک سالی کی صورتحال درپیش ہے۔ گزشتہ چھ سال کے دوران خشک سالی کا یہ سلسلہ برقرار ہے۔ان حالات میں راحت کاری کو منظم اور مربوط طریقہ سے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ عوام اور مویشیوں کیلئے پانی، چارہ ، مزدوروں کو کام فراہم کرنے کیلئے حکومت نے کئی اسکیمیں مرتب کی ہیں، ان اسکیموں کے ذریعہ مزدوروں اور غریبوں تک فائدہ پہنچانا افسران کی ذمہ داری ہوگی ۔ انہوں نے کہاکہ خاص طور پر ریاست کے کسی بھی علاقہ میں لوگوں کو پینے کے پانی کی تکلیف نہ ہونے پائے یہ یقینی بنانا افسران کی ذمہ داری ہے۔ سدرامیا نے کہاکہ ہر اسمبلی حلقہ میں اراکین اسمبلی کی قیادت میں قائم ٹاسک فورس کو 60لاکھ روپیوں کی رقم ، پینے کی پانی کی فراہمی کیلئے مہیا کرائی گئی ہے۔اس کے علاوہ ڈپٹی کمشنروں کے پاس چیف منسٹر ریلیف فنڈ کی رقم بھی دستیاب ہے۔اس رقم کو استعمال کرتے ہوئے پینے کے پانی کی فراہمی کی طرف توجہ دی جائے۔ انہوں نے کہاکہ نجی بورویلوں کو بھی ضرورت پڑنے پر استعمال کرکے ان کے ذریعہ عوام کو پانی فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ریاست میں چارہ کی قلت کو دیکھتے ہوئے بیرون ریاستوں کو چارہ کی روانگی پر روک لگائی جاچکی ہے۔ چارہ کا ذخیرہ کرنے کیلئے چارہ بینک قائم کیا جائیگا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ مانسون کی فصلیں پوری طرح ناکام ہوچکی ہیں، 160 سے زائد تعلقہ جات خشک سالی کی لپیٹ میں آچکے ہیں۔ ایک اندازہ کے مطابق 25ہزار کروڑ روپیوں سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت کی طرف سے کرناٹک کو راحت کاری کیلئے رقم جاری کرنے کا اعلان ہوا ہے ، اپوزیشن پارٹیاں عوام اور کسانوں میں یہ غلط فہمی پھیلانے کی کوشش کررہی ہیں کہ مرکزی حکومت نے رقم جاری کردی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کی طرف سے4702کروڑ روپیوں کی امداد کا تقاضہ مرکز کے سامنے رکھا گیا ، لیکن مرکزی حکومت نے اس میں سے صرف 1782 کروڑ روپے جاری کرنے کا اعلان کیا، لیکن اب تک یہ رقم ریاستی حکومت کو نہیں ملی ہے، جیسے ہی رقم دستیاب ہوگی ، اسے کسانوں کے کھاتوں میں منتقل کردیا جائے گا۔ اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو انہوں نے سخت ہدایت دی کہ مرکز سے رقم ملتے ہی بلاتاخیر کسانوں کے کھاتوں میں منتقل کرنا شروع کردیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ ریاست کی ہر گرام پنچایت کے احاطہ میں سرکاری زمین کے رقبہ کی نشاندہی کی جائے اور جامع سروے کرواکر حکومت کو رپورٹ سونپی جائے، بہت سارے مقامات پر گومال اور سرکاری زمین غیر قانونی قبضوں میں جاچکی ہے۔ قبضہ کرنے والوں کے مقام اور مرتبے کی پرواہ کئے بغیر ان سے زمین چھین لی جائے۔ اضلاع کے انچارج سکریٹریوں سے مخاطب ہوکر وزیراعلیٰ نے کہاکہ درج فہرست طبقات اور پسماندہ طبقات سمیت سماج کے تمام کمزور طبقات کی فلاح وبہبود یقینی بنانے کیلئے وہ سرکاری دفاتر میں بیٹھ کر کام کرنے کی بجائے خود ہی عوام کے درمیان پہنچ کر کام کریں۔ انہوں نے کہاکہ ایڈزکے مریضوں اور دیوداسیوں کو مکانات فراہم کرنے کی اسکیم کا اعلان گزشتہ بجٹ میں کیاگیا ، لیکن اب تک اس اسکیم کے متعلق کوئی پیش رفت نہیں ہوپائی ہے۔ اس کانفرنس میں ریاستی وزیر شہری ترقیات وحج جناب روشن بیگ، وزیر مالگذاری کاگوڈ تمپا، وزیر دیہی ترقیات ایچ کے پاٹل، وزیر برائے تعمیرات عامہ ایچ سی مہادیوپا اور دیگر اعلیٰ افسران موجود تھے۔


Share: