بنگلورو۔30اکتوبر(ایس او نیوز)ریاستی وزیر برائے صحت وخاندانی بہبودرمیش کمار نے کہا کہ نجی اسپتالوں میں علاج کیلئے زیادہ فیس حاصل کرنے پر پابندی لگانے کیلئے حکومت نے بہت جلد نیا قانون جاری کرنے کافیصلہ کیا ہے ۔ اس تعلق سے سروے کرکے دوماہ کے اندر رپورٹ پیش کرنے کیلئے سپریم کورٹ کے سابق جسٹس وکرم جیت سین کی زیر قیادت مختلف شعبوں کے ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ رپورٹ کی بنیاد پر نیا قانون جاری کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ نجی اسپتالوں میں مریضوں کو درپیش مسائل اور ان کی شکایتوں کو دور کرنے کیلئے بھی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف بیماریوں کی جانچ اور طبی خدمات کی فیس کے متعلق اسپتالوں میں فیس بورڈ کو لگانا لازمی قرار دیا جائے گا۔وزیر صحت نے بتایا کہ نجی اسپتالوں میں مریضوں سے افزود فیس وصول کرنے کے متعلق متعدد شکایتیں موصول ہوئی ہیں ۔ اسپتالوں کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کافیصلہ کیا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری اسپتالوں میںآپریشن کو لے جانے والے مریضوں کے بال نکالنے کے لئے حجامت کی سہولت فراہم کرنے پر غور کیا جارہا ہے ۔ یہ کوئی بیوٹی پارلر نہیں ہوگا بلکہ آپریشن کے لئے لے جانے والے مریضوں کو جس مقام پر آپریشن کیا جائے گا وہاں کے بال کی صفائی کی جائے گی ، جس کیلئے چند افراد کا تقرر عمل میں لایا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ تاریخ ختم ہونے کے باوجودگوداموں میں دوائیوں کا ذخیرہ رکھ کرانہیں دوائیوں کو فراہم کرنے والی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔وزیر صحت نے بتایا کہ سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی کو دور کرنے کیلئے نئے ڈاکٹرس کی تقرری کے لئے ضروری اقدامات کئے جائیں گے ۔ میڈیکل ڈگری رکھ کر کنٹراکٹ پر کام کررہے ڈاکٹروں کو فوری خدمات حاصل کرکے اپارٹمنٹ آرڈر دیا جائے گا ۔ نجی ڈاکٹروں کو بھی سر کاری خدمت انجام دینے پر حکومت سے ہی تنخواہ دی جائے گی ۔ اور انہیں مقامی سرکاری اسپتالوں میں کام کرنے کاموقع فراہم کیاجائے گا۔ جس سے سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی قلت کو ایک حد تک دور کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست کے 11سرکاری میڈیکل کالجوں میں ایکسرے ، پریگینتسی بچوں اور معذور مریضوں کا بروقت علاج کیلئے ڈاکٹروں کو تیار کرنے کے مقصد سے اگلے تعلیمی سال سے پوسٹ گریجویٹ ( پی جی ) ڈپلوما کورس شروع کیا جائے گا۔رمیش کمار نے بتایا کہ ریاست کے سرکاری اسپتالوں میں آپریشن کرانے کے خواہشمند مریضوں کو بی پی ایل اور اے پی ایل کارڈز رکھنے والوں کو ہیلتھ اسمارٹ کارڈ فراہم کئے جائیں گے ۔ دیہی علاقوں میں ہر 15کلومیٹر کے فاصلہ پر ایمبولنس کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی ۔ اس کیلئے پرائمری ہیلتھ سنٹر اور گرام پنچایت کو ایمبولینس کی سہولت فراہم کی جائے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ زیادہ آبادی والے علاقوں ، مزدور کالونیوں اور جھونپڑ پٹی علاقوں میں پرائمری ہیلتھ مراکز قائم کئے جائیں گے اور یہاں ایک ڈاکٹر اور نرس کے ساتھ دوائیوں کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ہر تعلق میں ڈیالیسس سنٹر کے ساتھ 27لاکھ روپئے کی لاگت سے وینٹی لیٹر ، آئی سی یوقائم کئے جائیں گے ۔ ضلع ہیڈ کوارٹر س میں ڈاکٹر س اور نرسوں کے قیام کی سہولت کیلئے ڈاکٹروں کی تنخواہ میں دوہزار اور نرسوں کی تنخواہ میں ڈیڑھ ہزار روپئے کا اضافہ کیا جائے گا ۔وزیر صحت نے بتایا کہ ہاپ کامس کی جانب سے پھلوں کی فروخت کے لئے دکانیں کھولی جائیں گی ۔ کے ایم ایف سے دودھ اورچھاچھ کی سہولت کیلئے دکانیں قائم کی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ تمام سرکاری اسپتالوں میں حبزک دوائیوں کی دکانیں قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے ۔اس سلسلے میں پہلے مرحلہ میں 200دکانیں کھولی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ صحت کے تعلق سے شکایتیں اور مسائل کو حل کرنے کیلئے موبائل نمبر9535811104پر واٹس اپ کے ذریعہ روانہ کرسکتے ہیں ۔ شکایتیں موصول ہونے پر ایک ماہ کے اندر اس کا حل تلاش کیا جائے گا ۔ انہوں نے بتایا کہ ہبلی میں کام کررہے 104ہلپ لائن نمبر کو شہر کے سی وی ۔ رام نگر میں واقع سرکاری اسپتال کو منتقل کیا گیا ہے۔وزیر صحت نے بتایا کہ ریاست میں 13لاکھ معذورین ہیں انہیں مصنوعی پیر ، تین پہیہ والی بائیسکل ،اور بہروں کو سنائی دینے والی مشین فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے اس بات کی بھی جانکاری دی کہ محکمہ صحت کے مسائل کو حل کرنے کے مقصد سے نومبر اور دسمبر کے ماہ میں تمام ڈپٹی کمشنر ز ضلع پنچایت کے چےئرمینوں اور چیف ایکزی گیٹیو افسران ، محکمہ سماج و بہبود اور محکمہ صحت کے افسران کا اجلاس طلب کیا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اگلے 3ماہ میں تمام معذور افراد کی فہرست تیار کرکے ان کی ضرورت کے مطابق چیزیں فراہم کی جائیں گی اور بہت جلد ان چیزوں کو تقسیم کردیا جائے گا۔