ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سدرامیا پر جناردھن پجاری کے رکیک حملے جاری؛ تادیبی کارروائی کرنے سابق مرکزی وزیر کا چیلنج

سدرامیا پر جناردھن پجاری کے رکیک حملے جاری؛ تادیبی کارروائی کرنے سابق مرکزی وزیر کا چیلنج

Fri, 23 Dec 2016 08:56:51    S.O. News Service

بنگلورو۔22/دسمبر(ایس او نیوز) سینئر کانگریس لیڈر اور سابق مرکزی وزیر بی جناردھن پجاری نے وزیراعلیٰ سدرامیا کے خلاف رکیک حملوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سیکس اسکینڈل میں ملوث سابق ریاستی وزیر ایچ  وائی میٹی کو فوراً کانگریس سے برطرف کردیا جائے۔آج منگلور میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پجاری نے الزام لگایا کہ وزیراعلیٰ سدرامیا ایچ وائی میٹی کو بچانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت پہلے ہی میٹی کی کالی کرتوت کے بارے میں جان چکے تھے، لیکن انتہائی بے شرمی کے ساتھ ایسے بدکار وزیر کو اپنی وزارت میں رکھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہاکہ دوسری پارٹیوں سے کچھ عرصہ قبل کانگریس میں آنے والے لوگوں کی وجہ سے پارٹی کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ان میں سدرامیا بھی ایک ہیں۔ان لوگوں کو فوری طور پر راہ راست پر لانے کی ضرورت ہے ورنہ ریاست میں پارٹی کی بنیادیں کمز ور پڑ جائیں گی۔ انہوں نے کہاکہ پارٹی نے اگر اسی قیادت کو اپنا کر آئندہ اسمبلی انتخابات لڑے تو ریاستی عوام پارٹی کو اچھا سبق سکھائیں گے۔ کانگریس اعلیٰ کمان کی طرف سے انہیں پارٹی مخالف بیان بازی کی پاداش میں نوٹس جاری کئے جانے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے جناردھن پہجاری نے کہاکہ انہیں ایسا کوئی نوٹس نہیں ملا ہے، نوٹس ملابھی تو وہ اپنا موقف بدلنے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ انہیں کانگریس پارٹی سے کوئی نکال نہیں سکتا۔ پارٹی نے اگر نکال بھی دیا تو وہ یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ کانگریس ان کے خون میں بسی ہوئی ہے۔وہ شروع سے ہی ایک دیانتدار اور خالص کانگریسی رہے ہیں۔ جواہر لال نہرو کے دور سے ان کا پورا خاندان کانگریس کی خدمت کرتا رہا ہے۔ سچائی کہنے پر اگر پارٹی نے انہیں بے دخل کربھی دیا تو انہیں مایوسی نہیں ہوگی۔ پارٹی سے نکل کر بھی وہ غلط کاریوں پر تنقید کا سلسلہ برقرار رکھیں گے۔ اس سوال پر کہ حکومت اور پارٹی کی بدنظمیوں کا مسئلہ وہ پارٹی کے پلاٹ فارم پر کیوں نہیں اٹھاتے۔پجاری نے کہاکہ پارٹی کے محاذپر اگر یہ مسائل اٹھائے گئے تو انہیں پارٹی مخالف قرار دیاجائے گا۔ ریاست کے اہم مسائل پر وزیراعلیٰ سدرامیا سے ملاقات کرنے سے وزیراعظم مودی کے انکار پر اپنی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی اس توہین کے خلاف ریاست کے کانگریس اراکین اسمبلی کو استعفیٰ دیدینا چاہئے۔
 


Share: