منگلورو29؍نومبر (ایس او نیوز)لگتا ہے کہ اب جیل میں بھی بجرنگیوں اور سنگھ پریوار کے غنڈوں کا راج چل پڑا ہے۔ ابھی پچھلے دنوں مصطفےٰ نامی قیدی کو ضمانت پر رہا ہونے سے کچھ دیر پہلے جیل کے اندربے رحمی سے قتل کیا گیا تھا۔
تازہ واقعہ ہیراڈکا ڈسٹرکٹ جیل کا ہے جہاں پر ارشاداور رفیق نامی قیدیوں پر بجرنگیوں کی ایک ٹیم نے اس وقت حملہ کردیا جب وہ اپنے سیل سے باہر کھانا لینے کے لئے نکلے تھے۔کنداپور کے ارشاد اورکارکلا کے رفیق نامی دو لوگوں کو ماروتی سوفٹ کار میں ذبح کرنے کے لئے گائے لے جانے کے الزام میں26نومبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اوربعد میں انہیں عدالتی تحویل میں ڈسٹرکٹ جیل بھیج دیا گیا تھا۔
ارشاد پر حملہ کرنے والے بجرنگیوں کے بارے میں بتایا جاتا ہے وہ لوگ ان 21ملزموں میں سے ہیں جو بجرنگ دل اور ہندو جاگرن ویدیکے کے کارکنان ہیں۔جنہیں پروین پجاری کے قتل کے الزام میں گرفتار کرکے جیل بھیجا گیا ہے۔ خیال رہے کہ پروین پجاری کوبھی گؤکشی کے لئے جانور فراہم کرنے کا الزام لگا کر بجرنگیوں نے بڑی بے رحمی سے قتل کردیا تھا۔ہیراڈکا پولیس نے جیل میں پہنچ کر ارشاد کی شکایت پر سدیپ شیٹی،اکھیلیش شیٹی،سوکمار، منجیش، پرتیک اور پرشانت موگویر کے خلاف مارپیٹ کرنے اور جان سے مارنے کی دھمکی دینے کا کیس درج کرلیا ہے۔
ہیراڈکا جیل میں ساتھی قیدیوں پر حملے کی اس واردات کے بعدارشاد اور رفیق کو منگلورو جیل،حملے میں شامل 10 ملزموں کے ایک گروہ کو چترادرگہ جیل، 14ملزموں کو کاروار جیل اور 2ملزموں کو چکمگلورو جیل میں منتقل کردیا گیا ہے۔