چنتامنی:30 /جنوری(محمد اسلم/ایس او نیوز)کانگریس حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے عوام کے مسائل کو حل کرنے پر بالکل توجہ نہیں دے رہی ہے ان خیالات کااظہار سابق ریاستی وزیر وبی جے پی کے جنرل سکریٹری اروند لمباولی نے کیا ۔
یہاں کے مختلف کالجس اسکولس وغیرہ کے پاس جاکر ریاستی قانون ساز کونسل کے شمال ،مغربی ٹیچرس حلقے کیلئے 3فروری کو ہونے والے انتخابات کے سلسلے میں بی جے پی امیدوار پی۔آر۔بسواراج کے حق میں انتخابی مہم چلا ئی امیدواروں کے حق میں ووٹ طلب کرنے بعد اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت بیانات تک ہی محدودرہ گئی ہے اور صرف بیانات کے ذریعہ ہی بہلانے کی کوشش جارہی ہے، ملک کی ترقی صرف بی جے پی سے ہی ممکن ہے اس خصوص میں وزیر اعظم نریندمودی خصوصی توجہ دئے رہیں ہیں سابقہ یو پی اے حکومت کے دور اقتدار میں مالی حالت غیر مستحکم تھی سرکاری خزانہ پوری طرح سے خالی ہوچکا تھا ملک میں نمایاں تبدیلیاں لانے کے لئے مودی نے کئی بیرونی ممالک کا دورہ بھی کیا ہے لیکن کانگریس پارٹی کے لیڈران نے اس پر بھی نکتہ چینی کررہے ہیں ۔
لمباولی نے کہا کہ کانگریس نائب صدر راہول گاندھی چند ماہ قبل اچانک غائب ہوگئے تھے وہ کہا گئے تھے کانگریس پارٹی کے لیڈران جواب دیں کانگریس پارٹی کے ریاستی لیڈران مرکزی حکومت پر بے بنیاد الزامات عائد کررہے ہیں مرکزی حکومت نے خشک سالی سے نمٹنے کے لئے ریاست کو 1540کروڈ روپے جاری کئے ہیں اس امداد کا صحیح طریقے سے تقسیم کریں ریاست میں بجلی کی قلت کاامکان ہے حکومت کو اس معاملہ پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔
انہوں نے اور کہا کہ کانگریس پارٹی کے لیڈران میں اتحاد اور فقدان نظر آرہا ہے انہوں نے مزید کہا کہ مودی کے ترقیاتی کاموں کو دیکھ کر آج ریاست کے کئی پارٹیوں کے کارکنوں بی جے پی پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے بڑھ چڑھ کر سامنے آرہے ہیں آنے والے انتخابات رُکن اسمبلی انتخابات میں بی جے پی دوبارہ ریاست میں اقتدار حاصل کریگی دوبارہ کرناٹک میں بی جے پی کا دربار چلیں گا جنتادل(ایس)تو ختم ہورہی ہے اُس کے ساتھ ہی کانگریس پارٹی کا بھی کرناٹک ریاست سے خاتمہ یقین ہے۔
لمباولی نے آپنی تقرر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ کہ ملک میں کانگریس پارٹی کی ساکھ کمزور ہوچکی ہے جس کے سبب پچھلے انتخابات میں کانگریس پارٹی کو اقتدار سے محروم ہونا پڑا ملک کے صرف چند ریاستوں میں ہی کانگریس اقتدار پر قابض ہے جبکہ بی جے پی 48فیصد سے حساب ملک کے 17ریاستوں میں اقتدار قابض ہے انہوں نے کارکنان کو آواز دی کہ بقیہ ریاستوں میں بھی بی جے پی کو اقتدار پر لانے کے لئے تیار ہوجائیں انہوں نے کانگریس پارٹی کا صرف نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی کا صرف نعرہ ہے غریبی ہٹاؤ لیکن صرف کانگریس پارٹی کے لیڈران ہی اپنی غریبی کو دور کیا ہے عوام کے مسائل پر بالکل توجہ نہیں دی بی جے پی نے بغیر حکم سمیت دیگر کئی مسائل پر تحریک چلارہی ہے جس کے سبب عوام کو کافی سہولت فراہم ہورہی ہے ۔
موصوف نے اور کہا کہ بی جے پی ساری دنیا میں واحد پارٹی ہے جو مقبولیت کے سارے منازل طئے کرکے شہرت پائی ہے اس کے پیش نظر ساری دنیاء کے ممالک کے سربراہ اس ملک سے دوستی کرنا چاہتے ہیں سب سے قبل بی جے پی کے مہان لیڈر اور ملک کے وزیر اعظم کو دور رکھنے کی کوشش کی کئی ممالک ان کو اپنے ملک میں آنے کی اجاز ت دینے سے کترارہے تھے مگر اب معاملہ اس کے بر عکس ہوگیا ہے ہر ملک آج بھارت دیش سے دوستی بڑھانا چاہتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ مودی کی ملک کے لئے اقتصادی پالیسی ہر ملک سے بہتر ہے ان کی دور اندیشی سے ہر ملک ان کی شخصیت کا گر و دیدہ بن گیا ہے ملک کے حق میں جو بھی انہوں نے فیصلے لئے وہ قابل تعریف ہیں چاہئے وہ پاکستان کے خلاف سر جیکل اسٹرائیک ہو یا ملک کے حق میں نوٹ بندی کا فیصلہ ان کے حق بجانب فیصلوں سے ہمارا ملک دنیا ء کے ہر ممالک کا دوست بن کر سب سے بہتر رشتہ استوارکرلیا ہے سوائے ملک پاکستان پاکستان ملک دنیا ء میں تنہا پڑگیا ہے۔اس موقع پر ان کے ہمراہ بی جے پی لیڈر پرتپا تعلقہ بی جے پی کے صدر انجنیاریڈی پرکاش شیوپا ارون بابو مہیش منجوناتھ ریڈی سمیت کئی اے بی وی پی تنظیم کے کارکنان وغیرہ بھی موجود رہے ۔