بلگاوی میں فیروز سیٹھ کی رہائش گاہ پر روشن بیگ کی صدارت میں مسلم لیجسلیٹرز فورم کا اجلاس
بنگلورو۔30؍نومبر(ایس او نیوز) کل شب بلگاوی میں مقامی رکن اسمبلی فیروز سیٹھ کی رہائش گاہ پر مسلم لیجسلیٹرس فورم کا اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں وزیر اعلیٰ سدرامیا نے شرکت کی۔ اجلاس میں ریاست کے مسلم وزراء ، اراکین اسمبلی اور کونسل نے وزیراعلیٰ کے روبرو مسلمانوں کو درپیش سلگتے مسائل پیش کئے اور انہیں حکومت کی سطح پر سلجھانے کیلئے چند مشورے بھی دئے۔ مسلم لیجسلیٹرز فورم کے صدر وزیر شہری ترقیات وحج جناب روشن بیگ نے آج بتایاکہ وزیراعلیٰ سدرامیا نے اجلاس میں تمام مسلم مسائل کو کافی غور وخوض سے سنا اور انہیں مناسب طریقے سے نمٹانے کیلئے سرکاری سطح پر اقدامات کرنے کا تیقن دیاہے۔ جناب روشن بیگ نے بتایاکہ وزیر اعلیٰ کو مسلمانوں کی سماجی ،معاشی اور تعلیمی حالت کے بارے میں تفصیلات پیش کی گئیں۔
بے قصوروں کے مقدمات کی واپسی:جناب روشن بیگ نے بتایا کہ میٹنگ کے دوران وزیراعلیٰ کو یاد دلایا گیا کہ ریاست میں برسر اقتدار آنے سے قبل کانگریس نے انتخابی منشور میں وعدہ کیا تھاکہ جن مسلم نوجوانوں پر فرضی مقدمات درج کئے گئے ہیں اور جو نوجوان بے قصور ہیں ،ان کے خلاف حکومت مقدمات واپس لے گی۔اس سلسلے میں چند دن قبل ایک کابینہ ذیلی کمیٹی بھی قائم ہوئی جس نے اپنی رپورٹ بھی پیش کی ،جس کی بنیاد پر بعض مقدمات واپس لئے گئے ، لیکن اور بھی بہت سارے بے قصور نوجوان مختلف مقدمات میں پھنس کر جیلوں میں مقید ہیں۔ مسلم قائدین نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ان تمام مقدمات پرنظر ثانی کی جائے اور ان مقدمات میں اگر بے قصور نوجوان قید ہیں تو ان کی رہائی یقینی بنائی جائے اور ساتھ ہی ان پر لگائے گئے الزامات میں جو ملوث ہیں ان کے خلاف عدالتی کارروائی کو تیز کیاجائے۔ وزیر اعلیٰ سدرامیا نے اس سلسلے میں کافی سنجیدگی سے غور کرنے اور جلد از جلد کارروائی کرنے کا وعدہ کیا۔
شہری سہولیات کی فراہمی:ریاست کی کثیر مسلم آبادی والے علاقوں میں بنیادی سہولیات کی حد درجہ کمی کے متعلق وزیراعلیٰ سدرامیا کو نشاندہی کراتے ہوئے مسلم قائدین نے مطالبہ کیا کہ ان مسلم علاقوں کو منتخب کرکے وہاں بجلی، پانی ، ڈرینج ، پکی سڑکیں اور دیگر شہری سہولیات مہیا کرانے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ حالانکہ ریاستی حکومت نے گزشتہ بجٹ میں اس کیلئے رقم مختص کی تھی، لیکن اس رقم کو مناسب مد میں صرف نہیں کیا جاسکا اور اقلیتی آبادی والے علاقوں کو بلدی سہولیات مہیا کرانے کی اسکیم شروع ہی نہیں ہوئی۔ تمام نے مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ سدرامیا فوری طور پر اس سلسلے میں توجہ دیں ،اور اقلیت بالخصوص مسلم آبادی والے علاقوں کو بہتر سے بہتر شہری سہولیات فراہم کرنے کی جانب توجہ دیتے ہوئے حکام کو ہدایات جاری کریں، اس موقع پر وزیر شہری ترقیات وحج جناب روشن بیگ نے وزیر اعلیٰ کو بتایاکہ محکمۂ شہری ترقیات کے تحت اقلیتی آبادی والے علاقوں کیلئے مخصوص ترقیاتی منصوبے ترتیب دئے جاسکتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ سدرامیا اگر دلچسپی دکھائیں تو ان علاقوں کی ترقی کیلئے محکمہ کارروائی کرنے کیلئے تیار ہے۔
بیاک لاگ اسامیوں کی بھرتی:مسلم لیجسلیٹرز نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ ریاستی حکومت کی طرف سے سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کیلئے 4 فیصد ریزرویشن مختص ہے ،لیکن بیشتر سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کے ریز رویشن کا حصہ پر نہیں ہوپارہا ہے،جس کی مختلف وجوہات ہیں۔ تمام اراکین نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ پچھلے چند برسوں سے مسلمانوں کو دئے جانے والے ریز رویشن میں جو اسامیاں پر نہیں ہوپائی ہیں، ان کو بیاک لاگ قرار دیتے ہوئے آنے والے دنوں میں انہیں پر کرنے کیلئے ضروری قدم اٹھائے جائیں۔ وزیر اعلیٰ سدرامیا نے بڑی تعداد میں بیاک لاگ مسلم ملازمتوں کے خالی رہ جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس بات سے اتفاق کیا کہ بیاک لاگ اسامیوں کو پر کرنے کیلئے سرکاری سطح پر کوئی نظام مرتب کیاجانا چاہئے۔
راشن کارڈ کی فراہمی: ریاست بھر میں مسلمانوں کو راشن کارڈ کی فراہمی میں پیش آنے والی دشواریوں سے سدرامیا کو آگاہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ راشن کارڈ حاصل کرنا ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ محکمۂ شہری رسد وخوراک کو اس سلسلے میں یہ ہدایت جاری کی جائے کہ راشن کارڈوں کی فراہمی کے نظام کو سہل کیا جائے اور اس کی وجہ سے لوگوں کو تکلیف نہ ہو یہ یقینی بنایاجائے۔ وزیر اعلیٰ سدرامیا نے میٹنگ میں تقریباً دو گھنٹوں تک تمام اراکین کی طرف سے اٹھائے گئے مسائل کو اطمینان کے ساتھ بغور سنا اور تمام سے گذارش کی کہ وقتاً فوقتاً اس طرح کی میٹنگوں کا اہتمام کیا جائے، تاکہ وہ مسلمانوں کے مسائل سے پوری طرح واقفیت حاصل کرسکیں اور انہیں سلجھانے کی طرف قدم اٹھایا جاسکے۔ وزیر اعلیٰ نے مسلم لیجسلیٹرز فورم کے صدر جناب روشن بیگ اور سکریٹری عبدالجبار سے گذار ش کی کہ بنگلور میں اس طرح کی میٹنگیں منظم کی جائیں ،جس میں وہ خود بھی شریک رہیں گے اور وہاں تمام سرکاری افسران کو طلب کرکے مسلمانوں کو درپیش مسائل کو بروقت سلجھانے کیلئے ضروری ہدایات جاری کی جائیں گی ۔ میٹنگ میں وزیراعلیٰ نے اس بات پر زور دے کر کہاکہ ریاستی حکومت عوام کے تمام طبقات بالخصوص اقلیتوں کے مسائل کو سلجھانے کے تئیں کافی نرم رویہ رکھتی ہے۔ معاشی ، سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ مسلمانوں کو سرکاری مراعات کی فراہمی کے ساتھ ان کے جان ومال کی حفاظت حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے۔اس ذمہ داری سے حکومت ہرگزاپنا دامن بچانے کی کوشش نہیں کرے گی۔ انہوں نے تمام مسلم اراکین اسمبلی اور کونسل سے گذارش کی کہ مسلمانوں کودرپیش مسائل کو سلجھانے کیلئے اس طرح بار بار ان مسائل کو حکومت کے سامنے لایا جائے۔ میٹنگ میں ریاستی وزیر شہری ترقیات وحج جناب روشن بیگ ،وزیر بنیادی وثانوی تعلیمات اقلیتی بہبود واوقاف تنویر سیٹھ ،وزیر شہری رسد وخوراک یوٹی قادر ، میٹنگ کے میزبان بلگاوی کے رکن اسمبلی فیروز سیٹھ ،بیجاپور کے رکن اسمبلی مقبول باغوان ، ٹمکور کے رکن اسمبلی ڈاکٹر رفیق احمد ، منگلور نارتھ کے رکن اسمبلی محی الدین باوا، اراکین کونسل عبدالجبار، اور رضوان ارشد موجود تھے۔ مسلم لیجسلیٹرز فورم کے سکریٹری عبدالجبار کے شکریہ پر میٹنگ کااختتام ہوا۔