ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ریاستی حکومت درج فہرست طبقات کو داخلی ریزرویشن دینے کی پابند:آنجنیا

ریاستی حکومت درج فہرست طبقات کو داخلی ریزرویشن دینے کی پابند:آنجنیا

Tue, 06 Dec 2016 13:15:59    S.O. News Service

بنگلورو۔5؍دسمبر(ایس او نیوز) ریاست کے درج فہرست طبقات میں داخلی ریزرویشن دینے کے سلسلے میں وزیر اعلیٰ سدرامیا منصفانہ فیصلہ لیں گے۔یہ توقع آج وزیر برائے سماجی بہبود ایچ آنجنیا نے ظاہر کی۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ 30 سالوں سے مانگ کی جارہی ہے کہ درج فہرست طبقات کو حکومت کی طرف سے جو ریزرویشن دیاجاتاہے اس کے تحت داخلی ریزرویشن بھی دیا جائے۔اس سلسلے میں مناسب فیصلہ لینے کیلئے ریاستی حکومت کی سابقہ ایس ایم کرشنا حکومت نے ایک کمیشن قائم کیا تھا، کمیشن نے حکومت کو ایک رپورٹ پیش کرتے ہوئے متعدد سفارشات پیش کی ہیں۔ وزیر اعلیٰ سدرامیا اس کمیشن کی رپورٹ کے سلسلے میں تمام سے مشورے کرنے میں لگے ہوئے ہیں تاکہ منصفانہ طریقہ سے تمام طبقات کو ریزرویشن کی سہولت دی جاسکے۔انہوں نے کہاکہ درج فہرست طبقات کو داخلی ریزرویشن کے ذریعہ سماجی انصاف دلانے اور آبادی کے تناسب سے ان درج فہرست ذیلی طبقات کو ملازمتوں میں مناسب نمائندگی اور تعلیمی شعبے میں مواقع فراہم کرنے سے سماجی انصاف قائم ہوسکتا ہے۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بعض حلقوں سے داخلی ریزر ویشن کی مخالفت بھی کی جارہی ہے، لیکن اس کی پرواہ کئے بغیر حکومت تمام طبقات کو انصاف دلانے کے موقف کی پابند ہے۔ انہوں نے کہا کہ درج فہرست طبقات کو داخلی ریزرویشن دینے کے سلسلے میں جسٹس اے جے سداشیوا کمیشن کی رپورٹ حکومت کے سامنے موجود ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کی طرف سے گزشتہ سال ریاست کے عوام کے سماجی ومعاشی سروے کا اہتمام کیاگیا ، اس میں خاص طور پر درج فہرست اور پسماندہ طبقات کا سروے خصوصیت کے ساتھ کیا گیا۔ مسٹر آنجنیا نے بتایاکہ درج فہرست طبقات کے تحت 101 ذیلی ذاتیں آتی ہیں۔ ان میں سے بیشتر ذاتوں کو رزیرویشن کے ثمرات مل نہیں پارہے ہیں، حکومت ان تمام طبقات کو انصاف دلانے کی پابند ہے۔ اس موقع پر وزیر موصوف نے بتایاکہ ریاست میں زرعی زمین سے محروم درج فہرست ذاتوں کے زرعی مزدوروں کو امبیڈ کر ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی طرف سے زمینات تقسیم کرنے کیلئے 30ہزار ایکڑ زمین خریدی جارہی ہے، اور ہر زرعی مزدور کو دستیابی کی بنیاد پر ایک تا دو ایکڑ زمین دی جائے گی، جہاں انہیں صرف کاشتکاری کی اجازت ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ ضرورت پڑنے پر حکومت بازار کی قیمت سے تین گنا زیادہ تک کی بھی قیمت ادا کرکے کسانوں کویہ زمینات مہیا کرانے کی تیاری میں ہے۔انہوں نے کہاکہ امبیڈ کر ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے ریاست کے مختلف علاقوں میں زمینات کی نشاندہی کا سلسلہ آگے بڑھادیا ہے اور ساتھ ہی دلالوں کے بغیر زمینات کی خریداری کی پہل کی ہے۔ انتہائی شفافیت کے ساتھ زمینات کی خریداری کی جارہی ہے۔ زمینات کی تقسیم کیلئے زرعی مزدوروں کی نشاندہی کا نظام بھی شفافیت کے ساتھ اپنایا جائے گا۔ 


Share: