بیلگاوی۔ 23نومبر (ایس او نیوز) خسارہ بجٹ کے سبب حکومت کے بھاری قرض لینے کی ناموافق رپورٹس کے بعد وزیراعلیٰ سدارامیا نے کانگریس کے ارکان مقننہ کو یقین دہانی کروائی ہے کہ مالیاتی نظم کو برقرار رکھا جائے گا اور مالیاتی خسارہ کو دور کیا جائے گا۔ ذرائع نے کہا کہ چیف منسٹر نے کانگریس مقننہ پارٹی کی میٹنگ سے یہاں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2015-16 کے دوران جملہ 1,75,623کروڑ روپے کا قرض حاصل کیا گیا، جو جی ایس ڈی پی میں 24.91فیصد ہوتا ہے۔ریاستی حکومت نے گذشتہ مالی سال 24,769 کروڑ روپے کا بھاری قرض لیا۔ بیشتر قرض کی رقم کھلے بازار سے لی گئی،کیو ں کہ ریاست کھلے بازاروں سے مزید قرض کے رجحان میں اضافہ کو ظاہر کررہی تھی۔ سی اے جی کی رپورٹ جو آج ایوان اسمبلی میں پیش کی گئی،میں یہ بات بتائی گئی۔ 2002کے کرناٹک فسکل ریسپانسیبلٹی ایکٹ کے مطابق حکومت مالیاتی خسارہ کو کم کرنے کی پابند عہد ہے۔یہ 3فیصد سے زائد نہیں ہونی چا ہئے اور قرض کا جی ایس ڈی پی تناسب 25فیصد ہوناچاہئے،تاہم ریاست کی معیشت کے جاریہ مالیاتی سال متاثر ہونے کا امکان ہے کیوں کہ مرکز کی جانب سے کرنسی کی منسوخی کے سبب ریاست کوٹیکس کی بھاری وصولی میں شدید نقصان پہنچا ہے اور گاڑیوں و جائیدادوں کے رجسٹریشن کے تحت ہونے والی ٹیکس کی وصولی میں بھی بتدریج گراوٹ ہوئی ہے۔ ذرائع نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے ارکان اسمبلی سے کہا کہ نوٹوں کی منسوخی سے ریاست کومشکلات کا سامنا ہے، کیوں کہ ٹیکس کی وصولی میں بتدریج کمی ہوئی ہے۔ اسی دوران سدارامیا نے مسلسل دوسرے سال بھی ریاست کے شدید خشک سالی سے متاثر ہونے کے بعد کرناٹک میں زرعی قرضوں کی معافی کو مسترد کردیا۔انہوں نے کوآپریٹیو بینکس میں قرضوں کی معافی کے مطالبہ پر بی جے پی پرنکتہ چینی کی اور کہا کہ اگر مرکز قومیائے ہوئے اور علاقائی بینکس کے زرعی قرضوں کا کم از کم 50فیصد معاف کرنے کیلئے آگے آتی ہے تو ریاست بھی ا یسے ہی مساوی اقدامات کرے گی۔ پی ایس یو اور ریجنل بینکس سے کسانوں نے 35ہزار کروڑ روپے کے قرض سے استفادہ کیا ہے۔ کوآپریٹیو بینکس ریاست کے حدود میں آتے ہیں، جنہوں نے اس سال 10ہزار کروڑ روپے زرعی قرضوں کی تقسیم عمل میں لائی ہے۔ ذرائع نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ نے ضلع انچارج وزراء اور ارکان مقننہ کوسختی کے ساتھ ہدایت کی کہ وہ خشک سالی سے متاثرہ اضلاع کا جامع دورہ کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ خشک سالی کی راحت اور پینے کے پانی کی سپلائی متاثرہ علاقوں میں متاثر نہیں ہونی چاہئے اور ان فنڈس کا مناسب طور پر خرچ ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ اس کام کو جنگی خطوط پر کرنے اور خشک سالی کے مسئلہ پربی جے پی اور جے ڈی ایس کو حکومت کو گھیرنے کا موقع نہ دیا جائے۔ انہو ں نے ضلع انچارج وزراء سے خواہش کی کہ وہ خشک سالی سے متاثرہ ہر گاوں کا دورہ کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ پینے کے پانی کی سپلائی ہو ' یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کوملازمتیں فراہم کی جائیں اور مویشیوں اور دیگر جانوروں کو چارہ کی سپلائی میں بہتری پیدا کی جائے۔