بنگلورو، 20/دسمبر(ایس او نیوز) گجرات اور ہماچل پردیش کے انتخابی نتائج اور گجرات میں بی جے پی کی طرف سے دوبارہ اقتدار حاصل کرنے اور ہماچل پردیش میں کانگریس سے اقتدار چھین لینے کے بعد ریاست کرناٹک کے انتخابات بے حد اہمیت کے حامل ہو گئے ہیں اور یہاں زعفرانی پارٹی کے عزائم بھی بلند ہو تے نظر آرہے ہیں۔ ایسے میں بر سر اقتدار کانگریس جماعت کو سب سے بڑا چیلنج ریاست کے نوجوان اور کالجوں میں زیر تعلیم طلباء کی بڑی تعداد ہے۔حالیہ دنوں میں ریاست بھر کے تعلیمی اداروں میں بڑھتی ہوئی زعفرانی سرگرمیوں سے پریشان ریاستی حکومت نے اساتذہ اور صدر مدرسین کے لئے ضابطے مرتب کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔وزارت تعلیم کے نئے ضابطوں کے مطابق تعلیمی اداروں کے احاطہ میں دائیں بازو کی تنظیمیں کوئی اجلاس منعقد نہیں کر سکتیں اور اساتذہ اور صدر مدرسین کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ انہیں چیزوں کی تعلیم اور تدریس کا کام انجام دیں جنہیں حکومت نے تجویز کیا ہے ورنہ ان کے خلاف ضابطہ کی کارروائی کی جائے گی۔محکمہ تعلیم کے ذرائع کیا کہنا ہے کہ ، ایسی کئی (بائیں بازو کی ) تنظیموں کے اراکین کی طرف سے اسکولوں اور پی یو کالجوں کی عمارتوں کو اپنی تقاریب اور مذاکرات کے لئے استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیاہے، ڈگری کالجوں کو بھی اس کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے، تعلیمی اداروں میں اس طرح کی چیزوں کو بند کیا جانا چاہئے۔کہا جا رہا ہے کہ ریاستی حکومت اساتذہ کے لئے ایک ماڈل ضابطہ اخلاق نافذ کرنے والی ہے اس لئے کہ انہیں ’’بچوں کو ان ہی چیزوں کی تعلیم دینی ہے جس کی ضرورت ہے اور ریاستی حکومت کی جانب سے جو تجویز کی گئی ہیں‘‘۔ نہ تو صدر مدرسین اور نا ہی اساتذہ کو اس بات کی اجازت دی جائے گی کہ وہ ’’کسی اور طرح کی سرگرمیوں میں شریک ہوں‘‘۔ریاست میں اسمبلی انتخابات کے لئے ابھی کچھ مہینوں کی مدت باقی ہو گی لیکن ریاستی حکومت اس کا فائدہ اپنے دیرینہ رقیب ، بی جے پی ، کے حوالے کرنے کے لئے تیار نہیں ہے، یہ بات اس وقت بالکل واضح رہی جب کچھ ماہ قبل ریاستی وزیر تعلیم نے یہ کہا تھا کہ این ایس یو آئی (نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا۔۔۔طلباء کی وہ تنظیم جس کا کانگریس سے الحاق ہے) کسی بھی دوسری (طلباء کی) تنظیم سے بہتر ہے، انکا کہنا تھا کہ’’جب آپ کے پاس این ایس یو آئی ہے تو پھر کسی دوسری تنظیم کی ضرورت ہی کیا ہے‘‘۔وہ واضح طور پر اکھیلا بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کی جانب اشارہ کر رہے تھے جو کہ بی جے پی کی ذیلی طلباء تنظیم ہے۔انہوں نے کہا کہ’’میں چاہتا ہوں کہ اساتذہ نظام کو مستحکم کرنے کے سلسلہ میں اپنی ذمہ داریوں پر زیادہ توجہ دیں نہ کہ کسی تنظیم کی کارروائیوں میں خود کو ملوث کریں۔ہم اسکولوں کے لئے کچھ پروگرام مرتب کر رہے ہیں جو کہ ہم چاہتے ہیں اسکول اور کالج کی انتظامیہ لازمی طور پر اپنے تعلیمی اداروں میں منعقد کریں۔اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ان اسکولوں کی منظوری واپس لے لی جائے گی یا پھر انہیں ڈی نوٹیفائی کر دیا جائے گا‘‘۔ کچھ ہی دن قبل کرناٹک میں ریاستی کانگریس پاری کے انچارج وینو گوپال نے یوتھ کانگریس کے قائدین کو ہدایات دی تھیں کہ وہ بائیں بازو کی تنظیموں کے ساتھ جڑے ہوئے لیکچرر اور پروفیسران کی فہرست تیار کریں تاکہ کالجوں کے احاطہ میں اے بی وی پی پر قابو پایا جا سکے۔وزیر ت تعلیم کے ذرائع کے مطابق حکومت ایک پالیسی مرتب کر رہی ہے جس کے تحت اسکول اور کالجوں کو حساس علاقہ قرار دیا جائے گا، اگر ان لوگوں کا ایجنڈا یہ ہے کہ اسکولوں پر قبضہ حاصل کرلیں تو ہرگز اس کی اجازت نہیں دی جائے گی، اسکول اور کالج صرف تعلیم کے مقصد کے لئے ہوتے ہیں۔بعض احباب کی طرف سے ریاستی حکومت کے ان اقدامات پر تنقید بھی کی گئی ہے اور یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ اساتذہ اور طلباء کو ان کی اپنی پسند کی سیاسی جماعت کے انتخاب کے بنیادی حق سے محروم کیا جا رہا ہے،لیکن وزارت تعلیم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ان کے ذاتی طور پر کسی بھی اس طرح کی تنظیم سے وابستگی کے خلاف نہیں ہیں، لیکن اس طرح کی کوئی چیز اور کوئی بھی تقریب اسکول کے احاطہ میں یا کالج کی عمارت میں نہیں کی جا سکتی۔حالیہ دنوں میں کئی ایسی شکایات موصول ہوئی ہیں کہ بائیں بازو کی تنظیمیں کالج اوراسکول کی عمارتوں کو اپنے اجلاس وغیرہ منعقد کرنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ ریاست کے ساحلی علاقوں میں عموماً تعلیمی اداروں کے احاطہ میں اس طرح کے فرقہ وارانہ واقعات زیادہ دیکھے گئے ہیں۔۔۔یہاں تک کہ طلباء نے برقعہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے درسگاہوں میں زعفرانی شالیں اوڑھ کر آئے تھے۔ لیکن ریاست کے دوسرے حصے عام طور پر اس سے محفوظ ہی ہیں، جہاں امن و امان کا ماحول ہوتا ہے اور ہر ایک مذہب کے ماننے والوں کا وہاں خیر مقدم کیا جاتا ہے۔اے بی وی پی پر قابو پانے کے لئے پہلے قدم کے طور پر ریاستی حکومت نے فیصلہ یہ کیا ہے کہ اسکول کی ترقیاتی اور نگران کمیٹیوں (ایس ڈی ایم سی) کو مضبوط کیا جائے گا۔وزیر تعلیم کا خیال ہے کہ ایس ڈی ایم سی برادری ہمارا ہر اول دستہ ہونا چاہئے، ایس ڈی ایم سی اراکین کو اختیارات دئے جانے اور بیو میٹرک حاضری جیسے اقدامات کے ذریعہ ہم تعلیمی اداروں کے اندر ان بائیں بازو کی جماعتوں اور تنظیموں کی کارروائیوں پر روک لگائیں گے۔حالانکہ ہمیں کئی اساتذہ کے خلاف بھی شکایات موصول ہوئی ہیں لیکن ہم ان کی نگرانی کرنا چاہتے ہیں اور ان کے خلاف کارروائی بعد میں چل کر کی جائے گی۔اے بی وی پی نے البتہ ریاستی حکومت کے اقدامات کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ تنظیم صرف طلباء کو نا انصافیوں کے خلاف لڑنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔اے بی وی پی کے ریاستی صدر الما پربھونے کہا ہے کہ’’ہماری تنظیم کی طرف سے کسی بھی طرح کی انتقامی کارروائیوں یا اس طرح کی سرگرمیوں کو فروغ نہیں دیا جاتا۔ وہ چاہے امتحانات یا کالج کی فیس میں اضافہ کا معاملہ ہو یا بس کے پاس اور تعلیمی اداروں میں داخلہ کا مسئلہ، ہمارا نظریہ یہ ہے کہ ہم طلباء کو ان کی تعلیمی زندگی ہی کے دوران جمہوری نظام میں شریک ہونے کے لئے تیار کریں تاکہ جب وہ تعلیم کو مکمل کر کے باہر آئیں تو وہ خود اپنے طور پر کسی بات کا فیصلہ کرنے کی صلاحیت کے حامل ہو سکیں۔ریاستی حکومت اس طرح کے فیصلوں کے سلسلہ میں صرف تعصب اور جانب داری سے کام لے رہی ہے‘‘۔ایسا لگتا ہے کہ سال 2018 کے اسمبلی انتخابات بھی سال 2014 کے عمومی انتخابات کی طرح دلچسپ ہونے والے ہیں!!تصویر ۔۔۔اسمبلی انتخابات سے قبل ریاست کے تعلیمی اداروں میں زعفرانی سرگرمیوں کو بھی بڑھاوا دیا جا رہا ہے مگر ریاستی حکومت نے اس رجحان پر ضرب لگانے کے بھی اقدامات کر لئے ہیں۔