انقرہ،27؍نومبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)ترکی نے واضح کیا ہے کہ روس کے ساتھ تعلقات کے فروغ سے انقرہ کا شام میں صدر بشارالاسد کے بارے میں موقف تبدیل نہیں ہو گا۔ترکی کے نائب وزیراعظم نعمان قورتولموش نے کہا ہے کہ ترکی اور روس کے درمیان قربت سے انقرہ کا شام کے بارے میں موقف تبدیل نہیں ہوگا۔ ترکی شام کے بحران کے حل کے لیے بشارالاسد کو اقتدار سے علاحدہ کرنے کے مطالبے پر قائم رہے گا۔ بات کرتے ہوئے ترکی کے نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ شام کے بارے میں ہمارا موقف واضح ہے، بشارالاسد ایک جنگی مجرم ہے اور اس نے بار بار اپنی قوم کے خلاف جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ بشارالاسد کے بارے میں ترکی اور روس کے درمیان اختلافات اپنی جگہ موجود ہیں۔ ترکی اور روس شام کے مستقبل کے حوالے سے دو الگ الگ آراء رکھتے ہیں تاہم ہم اس بات پریقین رکھتے ہیں کہ روس اسد رجیم کو تنازع کے پرامن تصفیے پر قائل کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ روس شامی حکومت کی فوجی مدد کررہا ہے جب کہ ترکی شامی اپوزیشن کی نمائندہ مسلح قوتوں کا حامی ہے۔
خیال رہے کہ ترکی اور روس کے درمیان تعلقات گذشتہ برس اس وقت کشیدگی کا شکار ہوگئے تھے جب ترک فوج نے شام کی سرحد کیقریب روس کا ایک جنگی طیارہ مار گرایا تھا۔ تاہم دونوں ملکوں نے رواں سال اگست میں تعلقات دوبارہ بحال کرلیے تھے۔ترک صدر طیب ایردوآن نے گذشتہ جمعہ کو بھی اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتن سے شام کے مسئلے پر بات چیت کی تھی۔نائب وزیراعظم نے امریکا میں مقیم جلا وطن رہ نما فتح اللہ گولن کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور الزام عاید کیا کہ رواں سال جولائی میں منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش فتح اللہ گولن اور اس کے ساتھیوں نے تیار کی تھی۔ حکومت ریاست کے تمام اداروں کو گولن کے وفاداروں سے پاک کرنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس میں مزید وقت بھی لگ سکتا ہے۔