بنگلور:3/جنوری(ایس او نیوز)2017 میں بنگلور میٹرو ریل پراجکٹ متعدد نئے سنگ میل عبور کرنے والا ہے۔ یکم اپریل تک میٹرو ریل کا پہلا مرحلہ جو 42 کلومیٹر پر مشتمل ہے مکمل ہوجائے گا اس کے ساتھ ہی شہر کے شمال اور جنوب کو ایک لائن سے جوڑا جاسکے گا۔اس کی وجہ سے اس روٹ پر روزانہ سفر کرنے والے تقریباً دس لاکھ مسافروں کو سہولت ہوجائے گی اور ساتھ ہی پینیا سے لے کر بنشنکری تک ٹریفک مسائل میں کافی حد تک سدھار کی توقع کی جاسکتی ہے۔ میٹرو ریل کارپوریشن کے اندازے کے مطابق شمال اور جنوب کو جوڑ دئے جانے کے نتیجہ میں روزانہ کم از کم پانچ لاکھ مسافر میٹرو ٹرین کا استعمال کرسکتے ہیں۔ مسافروں کی تعداد کو دیکھتے ہوئے ان روٹس پر میٹرو کے اوقات میں بھی مناسب اضافہ پر سنجیدگی سے غور کیاجارہا ہے۔ فی الوقت ایم جی روڈ اور دیگر اہم میٹرو اسٹیشنوں سے میٹرو ٹرین رات دس بجے تک دوڑائی جارہی ہیں۔ ریاستی اور مرکزی حکومت کی طرف سے رواں سال ہی بنگلور کے اہم میٹرو اسٹیشنوں کے درمیان مضافاتی خدمات شروع کرنے کے منصوبے کو منظوری دی جاچکی ہے۔ پہلے مرحلے میں کے ایس آر سٹی ریلوے اسٹیشن سے وائٹ فیلڈ تک کی خدمات شروع کی جائیں گی۔ ان خدمات کے تحت سٹی ریلوے اسٹیشن سے کنٹونمنٹ، بنگلور ایسٹ، بیپناہلی، کے آر پورم، ہوڈی اور وائٹ فیلڈ تک مضافاتی خدمات شروع کی جائیں گی۔ بنیادی انفرااسٹرکچر سے جڑی خدمات کو تیزی سے مکمل کرنے پر زور دیاجارہا ہے۔اس کے ساتھ ہی عوام کی شدید مزاحمت کے باوجود ریاستی حکومت شہر کے ودھان سودھا سے ہبال فلائی اوور تک اسٹیل فلائی اوور کی تعمیر کے منصوبے کو آگے بڑھاچکی ہے، اس کیلئے مٹی کی جانچ کا کام شروع کردیاگیا ہے۔ اسی طرح بیپنا ہلی، ہینور، گرگنٹے پالیہ اور رانی چنما فلائی اوور کے کاموں کو رواں سال مکمل کرنے پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ ساتھ ہی جکور،گوڈیگے ہلی، ساہکار نگر اور کے جی ہلی ریلوے انڈر پاس کی تعمیر کو بھی رواں سال آگے بڑھایا جائے گا۔ایر پورٹ کیلئے ایک الگ راستے کی نشاندہی کرکے جلد از جلد اسے تیار کرنے وزیراعلیٰ سدرامیا کی ہدایت کے مطابق مارچ 2017 سے قبل شہر سے ایرپورٹ کیلئے ایک اور سڑک تیار کی جائے گی۔بلندور اور ورتور تالابوں کی صفائی اور اس کے آس پاس کی سڑکوں کو کشادہ کرنے کے کام کو بھی تیزی سے آگے بڑھایا جارہا ہے۔