نئی دہلی، 11/نومبر(آئی این ایس انڈیا/ایس او نیوز) کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے آج اس وقت لوگوں کو چونکا دیا جب وہ پارلیمنٹ اسٹریٹ میں واقع اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی)کی شاخ میں پہنچے اور عام لوگوں کی طرح لائن میں کھڑے ہو کر 500اور 1000روپے کے اپنے پرانے نوٹ بدلوائے۔انہوں نے اس درمیان وزیر اعظم نریندر مودی پر بھی نشانہ سادھا۔انہوں نے کہا کہ انہیں یہ بات سمجھ میں نہیں آئے گی کہ مرکزی حکومت کے اس قدم کی وجہ سے لوگوں کو کتنی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔مودی پر حملہ بولتے ہوئے راہل نے کہا کہ حکومت غریبوں کے لیے ہونی چاہیے، صرف 15-20بڑے صنعت کاروں کے لیے نہیں۔کانگریس نائب صدر نے کہا کہ وہ لائن میں اس کھڑے ہیں کیونکہ لوگوں کو اپنے 500اور 1000روپے کے نوٹ بدلوانے میں پریشانیوں کا سامنا کر نا پڑرہا ہے۔راہل نے صحافیوں سے کہاکہ اس لائن میں کوئی کروڑپتی نہیں ہے، غریب لوگ کئی گھنٹے سے قطار میں کھڑے ہیں۔میں کہنا چاہتا ہوں کہ حکومت غریبوں کے لیے ہونی چاہیے، صرف 15-20لوگوں کے لیے نہیں۔انہوں نے کہاکہ لوگوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،اس لیے میں ان کے ساتھ کھڑے ہونے آیا ہوں۔میں یہاں 4000روپے کے پرانے نوٹ جماکر اکے نئے نوٹ لینے آیا ہوں۔راہل نے صحافیوں سے کہاکہ نہ تو آپ، نہ ہی آپ کے کروڑ پتی مالک اور نہ ہی وزیر اعظم سمجھ پائیں گے کہ لوگوں کو کیسی تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔شام 4بج کر 25منٹ پر اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی شاخ بر پہنچے راہل نے اپنے پرانے نوٹ بدلوانے کے لیے لائن میں کھڑے ہو کر اپنی باری آنے کا انتظار کیا۔انہوں نے لائن میں کھڑے لوگوں سے بات بھی کی اور ان کی پریشانیاں سنی۔بہت سے لوگوں نے راہل کے ساتھ سیلفی بھی لی۔راہل کے بینک پہنچنے پر وہاں موجود لوگوں کو تھوڑی تکلیف کا سامنا بھی کرنا پڑا۔بہت سے لوگ راہل کی ایک جھلک پانے کی کوشش کر رہے تھے، بینک کے بھی کئی اہلکاروں کو راہل کے ساتھ تصاویر کھنچواتے دیکھا گیا۔راہل تقریباََ 40منٹ تک بینک میں رہے۔