بنگلورو29؍ستمبر(ایس او نیوز) راشن کی فراہمی کیلئے کوپن حاصل کرنے کے نظام کو عنقریب سہل بنایا جائے گا اور اسے محض ایک فون کال پر فراہم کیاجاسکتا ہے۔اس کیلئے 161 ہیلپ لائن ملک میں پہلی بار قائم کی جارہی ہے۔ یہ بات آج وزیر شہری رسد وخوراک یوٹی قادر نے کہی۔منگلور میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ راشن کے کوپنوں کیلئے طویل قطاروں میں کھڑے ہونے کی آئندہ کوئی ضرورت نہیں رہے گی، بلکہ صرف موبائل فون پر چند لمحوں میں اپنے لئے درکار خوردنی اناج کی مقدار کے مطابق کوپن منگوائے جاسکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کوپن کے اس موبائل نظام کو پنچایتوں کی سطح تک بھی متعارف کرایا جائے گا۔راشن کے کوپنوں کی فراہمی میں خامیوں کا اعتراف کرتے ہوئے قادر نے کہاکہ اس سے پہلے تین ماہ میں ایک بار کوپن کی فراہمی کا نظام رائج تھا، لیکن اس میں پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے حکومت نے ہر ماہ میں ایک بار کوپن فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ فی الوقت راشن کارڈ میں شامل ہر فرد کیلئے تین کلو چاول ، دو کلو گیہوں فراہم کی جارہی تھی۔ اس کے بدلے اب ضرورت پڑنے پر پانچ کلو چاول بھی دئے جائیں گے۔اس کے ساتھ ہی گیہوں ، راگی بھی ضرورت کے مطابق دی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومت کی طرف سے ساحلی علاقوں میں مچھلیاں پکڑنے والوں کو ماہانہ 1300 لیٹر مٹی کا تیل فراہم کیا جاتا ہے۔ مرکزی حکومت سے مزید مٹی کا تیل فراہم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ مسٹر قادر نے بتایاکہ آئندہ ماہ کے اختتام تک ریاست بھر میں نئے راشن کارڈوں کی تقسیم کا عمل مکمل کرلیا جائے گا۔ ہر گرام پنچایت کی سطح پر راشن کارڈ کی فراہمی کیلئے سافٹ ویر کی تنصیب مکمل کرلی گئی ہے۔ گزشتہ پندرہ سال سے راشن کارڈوں کی فراہمی میں جو رکاوٹ حائل تھی اسے نمٹالیاگیا ہے۔ وزیر موصوف نے بتایاکہ خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والے خاندانوں کو راشن کارڈ حاصل کرنے کیلئے 14شرائط کی تکمیل کرنی پڑتی تھی۔ ان میں سے 7 کو گھٹا دیا گیا ہے۔ فی الوقت بی پی ایل راشن کارڈ ، انکم ٹیکس دہندگان ، سرکاری ملازمین ، سات ایکڑ سے زیادہ زمین رکھنے والوں ، فور وہیلرس رکھنے والوں ، شہری علاقوں میں ایک ہزار مربع فیٹ سے زیادہ رقبے میں رہنے والوں ، ماہانہ 150 یونٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والوں کو بی پی ایل راشن کارڈ نہیں دئے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ راشن کارڈ ہولڈروں کو دالیں بھی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس کیلئے ریاستی حکومت 360 کروڑ روپے خرچ کررہی ہے۔ کاویری آبی تنازعہ کے سلسلے میں مرکزی حکومت کی مداخلت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومت کی طرف سے بارہا مرکز سے یہی گذارش کی جارہی تھی، لیکن اس پر توجہ نہیں دی گئی۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد آخر کار مرکز کو مداخلت کرنی ہی پڑی۔