ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / راجیو گاندھی قتل:مجرم نے سپریم کورٹ سے اپنے خلاف فیصلے کو واپس لینے کی درخواست کی

راجیو گاندھی قتل:مجرم نے سپریم کورٹ سے اپنے خلاف فیصلے کو واپس لینے کی درخواست کی

Thu, 25 Jan 2018 11:16:21    S.O. News Service

نئی دہلی،24؍جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قتل کے معاملے میں مجرم قرار دیئے گئے لوگوں میں سے ایک نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرکے عدالت کے مئی 1999 کے اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے جس کے تحت اسے مجرم قرار دیا گیا تھا۔سپریم کورٹ نے اس معاملے میں مرکزی تفتیشی بیورو سے بھی تین ہفتے کے اندر جواب طلب کیا ہے۔جسٹس رنجن گوگوئی اور جسٹس آر بھانومتی نے معاملے میں مرکزی تفتیشی بیورو سے تین ہفتے کے اندر جواب طلب کیا ہے۔اعلیٰ عدالت کے کیس میں اگلی سماعت کے لئے 21فروری کی تاریخ مقرر کی ہے۔یہ عرضی راجیو قتل کے مجرم اے جی پیرارولن نے دائر کی ہے۔سپریم کورٹ نے مئی1999کے اپنے حکم میں قتل کے چار قصورواروں پیرارولن، مروگن، سنتم اور نلنی کی موت کی سزا برقرار رکھی تھی۔حالانکہ اپریل2000میں تمل ناڈو کے اس وقت کے گورنر نے ریاستی حکومت کی سفارش اور کانگریس کی اس وقت کی صدر سونیا گاندھی کی درخواست پر نلنی کے موت کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔

بعد میں 18فروری، 2014 کو عدالت نے رحم کی درخواست پر فیصلے میں مرکز کی جانب سے 11سال کی تاخیر کے پیش نظر پیرارولن، اور دو دیگر قصورواروں سنتم اور مروگن کی موت کی سزا کو بھی عمر قید میں تبدیل کر دیا۔آج کی سماعت کے دوران پیرارولن کے وکیل گوپال شکرنارائنن نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل نے سپریم کورٹ کے 1999 کے فیصلے کو واپس لینے کی درخواست کرتے ہوئے عرضی دائر کی ہے اور سی بی آئی کو اس پر جواب دینا چاہئے۔پیرارولن نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ وہ گزشتہ 26 سال سے جیل میں بند ہیں۔عدالت نے کل مرکز سے کہا تھا کہ وہ قتل کے ساتوں قصورواروں کی رہائی کے سلسلے میں تمل ناڈو حکومت کے سال 2016 کے خط کا تین ماہ میں جواب دے۔تمل ناڈو حکومت کی جانب سے دو مارچ، 2016 کو لکھے اس خط میں کہا گیا ہے کہ ریاستی حکومت نے سات قصورواروں کو رہا کرنے کا فیصلہ لے لیا ہے، لیکن سپریم کورٹ کے 2015 کے حکم کے مطابق اس سلسلے میں مرکز کی رائے لینا لازمی ہے۔


Share: