نئی دہلی :5/ اگست (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)بی جے پی کے خلاف ایک مضبوط محاذکی حمایت کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا نے کہا ہے کہ وہ ترنمول کانگریس کے سربراہ اور مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کو 2019کے لوک سبھا انتخابات کے لیے حزب اختلاف کی جانب سے وزیر اعظم کے عہدے کا چہرہ بنائے جانے کے خلاف نہیں ہیں۔
دیوےگوڑاکا یہ تبصرہ ان خبروں کے بعد آیا ہے، جن میں کہا گیا تھا کہ کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیاں وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار کا مسئلہ انتخابات کے بعدکے لیے چھوڑنا چاہتی ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ اگر انتخابات سے پہلے اس موضوع کو اٹھایا گیا تو اپوزیشن کے اتحاد کو نقصان پہنچ سکتاہے۔دیوے گوڑا کی پارٹی جے ڈی (ایس)نے کرناٹک میں کانگریس کے ساتھ مخلوط حکومت بنائی ہے۔انہوں نے کہاہے کہ بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے اپوزیشن کو متحد کرنے میں کانگریس ایک اہم کردارنبھائے گی۔سابق وزیراعظم نے گزشتہ ہفتے ہی دہلی میں انٹرویومیں اس بات کا ذکر کیا کہ تیسری مورچہ کی تشکیل ابتدائی دور میں ہے اورممتابنرجی تمام غیر بی جے پی پارٹیوں کو ایک ساتھ لانے کے لیے اپنی بہترین کوشش کررہی ہیں۔دیوےگوڑا نے 1996میں جنتا دل کی قیادت کی حکومت کی تھی۔تاہم ان کا دور اقتدار سال بھر سے زیادہ نہیں رہا تھا۔انہوں نے کہا کہ ممتا آسام میں قومی شہری رجسٹر (این آرسی)کا مسودہ جاری کئے جانے کے بعد ایک وفاقی محاذبنانے کے لیے سنجیدگی سے کام کر رہی ہیں۔این آرسی ڈرافٹ فہرست میں شمال مشرق کی اس ریاست کے 40لاکھ لوگوں کے نام شامل نہیں ہیں۔این آرسی کی سخت تنقید کر رہیں ممتابنرجی مرکز کی حکمران پارٹی کا مقابلہ کرنے کے لیے دیگرجماعتوں کی بھی حمایت مانگ رہی ہیں۔