ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دہلی : بھینس لے جا رہے 3 لوگوں کے ساتھ مار پیٹ ،پولیس نے متاثرین کو گرفتارکیا

دہلی : بھینس لے جا رہے 3 لوگوں کے ساتھ مار پیٹ ،پولیس نے متاثرین کو گرفتارکیا

Mon, 24 Apr 2017 11:06:18    S.O. News Service

نئی دہلی،23؍اپریل (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )گزشتہ کچھ سالوں سے ملک کے مختلف حصوں سے نام نہاد گؤ رکشکوں کی غنڈہ گردی کی خبریں مسلسل میڈیا میں آرہی ہیں ۔ اسی ضمن میں جنوبی دہلی کے پاش علاقے میں تین لوگوں کے ساتھ جانوروں کے حقوق کی تنظیم کے مبینہ کارکنوں کی طرف سے مار پیٹ کی گئی ہے ۔پولیس متاثرین سے پوچھ گچھ کر رہی ہے، جو بھینسوں کو ذبح کرنے کے لیے گڑگاؤں سے غازی پور منڈی لے جا رہے تھے۔ان تینوں کے خلاف جانوروں کے ساتھ غیر حساس برتاؤ کرنے کا معاملہ درج کر لیا گیا ہے۔ساتھ ہی تینوں متاثرین کو ہی گرفتار بھی کر لیا گیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ بھینسوں کی حالت بہت خراب تھی۔پولیس افسر رامل بنیا نے مانا کہ متاثرین کو ہلکی چوٹیں آئی ہیں اور انہیں ایمس میں داخل کروایا گیا ہے۔وہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ حملہ آ وروں کے خلاف کوئی شکایت ابھی تک درج نہیں کی گئی ہے۔اس معاملہ میں جانوروں کے حقوق کی حفاظت کرنے والی جس تنظیم کا نام سامنے آیا ہے وہ ہے پیپل فار اینملس۔پولیس نے بتایا ہے کہ ’این جی اوپی ایف اے دہلی میں کافی وقت سے جانوروں کے خلاف ہونے والے مظالم پرکام کر رہی ہے، یہ لوگ گؤ رکشک نہیں ہیں۔وہیں پی ایف اے کی چیئرمین اور مرکزی وزیر مینکا گاندھی کی دفتر کی جانب سے کہاگیا ہے کہ حملہ آوروں کا ان کی تنظیم سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔وہیں موقع پر موجود کارکنوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے بھینس لے جا رہے لوگوں پر حملہ نہیں کیا، پی ایف اے کے گورو گپتا نے دعوی کیا کہ ہمیں بھینسوں کے غیر انسانی طریقے سے لے جائے جانے کے بارے میں اطلاع دی گئی تھی ،ہم نے ٹرک کا پیچھا کیا، پھر ہم نے پولیس کنٹرول روم میں شکایت کی۔غور طلب ہے کہ ہندوستان کے کئی حصوں میں گؤ کشی غیر قانونی ہے۔اترپردیش میں بی جے پی کے اقتدارمیں آنے کے بعد غیر قانونی مذبح کے لائسنس منسوخ کردئیے گئے تھے ۔گؤ رکشکوں کی طرف سے تشدد کا نشانہ بنائے جانے کی خبریں ہندوستان کے کئی حصوں سے مسلسل آ رہی ہیں ، گزشتہ جولائی میں ہی گجرات کے او نا میں چار دلتوں کے ساتھ گائے لے جانے کے الزام میں کپڑے اتار کر، گاڑی سے باندھ کر پیٹا گیاتھا ۔


Share: