نئی دہلی6ستمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)مقدس ترین اسلامی فریضہ حج کے فضائل و مناقب اورانسانی و معاشرتی زندگی میں اس کے وسیع تر اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے آل انڈیا متحدہ ملی محاذکے قومی صدر مولانا محمد اعجاز عرفی قاسمی نے کہاکہ متحدہ ملی محاذکے زیر اہتمام غالب اکیڈمی نئی دہلی میں یک روزہ’ حج کانفرنس ‘کا انعقاد اس لیے کیا جارہا ہے کہ مسلمانان عالم کے دہل و دماغ میں یہ فلسفہ جاگزیں کیا جاسکے کہ حج دوسری اسلامی عبادات نماز روزہ اور زکاۃوغیرہ سے یکسر مختلف ہے۔ اور یہ کہ تمام بدنی اور مالی عبادتوں کا مجموعہ فریضۂ حج صرف ایک عبادت ہی نہیں، بلکہ اقوام و ممالک کو ایک متحدہ پلیٹ فارم پر جمع کرنے اور عازمین مکہ و مدینہ کو اتحاد و مساوات اور اخوت و محبت کا درس دینے کا ایک مستحکم ذریعہ بھی ہے۔ انھوں نے حج کے اس مفید پہلو پر قرآن و حدیث کی روشنی میں بات کرتے ہوئے کہا کہ حج کو سال کے مخصوص مہینوں میں ایک خاص لباس، ایک خاص ادا اور ایک خاص ہیئت میں ادا کرنے کے حکم میں یہی مصلحت خداوندی پوشیدہ ہے کہ نہ صرف سارے عازمین حج اپنی عملی زندگی میں بھی مساوات و اتحاد اور یک جہتی و ذہنی ہم آہنگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ زندگی کے ہر میدان میں اونچ نیچ سے اوپر اٹھ کر ہمدردانہ اور برادرانہ معاملہ روا رکھیں، بلکہ سارے اسلامی ممالک کے ارباب حل و عقد بھی اس موقع سے سر جوڑ کر کوئی ایسا مستقبل کا لائحۂ عمل تیار کریں جو قوم مسلم کی ہمہ جہت ترقی و خوش حالی اور فلاح و بہبود میں کلیدی رول ادا کرسکے۔ انھوں نے کہا کہ حج کا یہ سفر سیر و تفریح اور لہو وو لعب کے لیے نہیں، بلکہ عبادت و ریاضت اور مستقبل کی زندگی کو ایک خاص رنگ میں ڈھالنے کے لیے ہے۔ اس لیے اسلامی ممالک کے سارے حکمرانوں کو مسلمانوں کے اس تاریخی اجتماع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عالمی پیمانے پر اتحاد اور وسیع پلیٹ فارم کی تشکیل کے لیے بھی بھرپور جدو جہد کرنی چاہیے، تبھی حج جیسے عظیم اسلامی رکن کے فوائد کی توسیع و ترسیل ممکن ہے۔اور اس عظیم الشان اسلامی اجتماع کو بار آور اور مؤثر بنایا جاسکتا ہے۔انھوں نے کہا کہ تاریخی اوراق کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ خلفائے راشدین، اس کے بعد اموی اور عباسی سلاطین اور دوسرے مسلم حکمراں قومی اور ملی مسائل کے پائیدار حل اور عوامی فلاح و بہبود کے تعلق سے اس موقع پر باہمی مشاورت اور تدبیر کار کر تے تھے اور پوری امت مسلمہ کے نام وہاں کی مقدس سرزمین سے ایک جامع منشور جاری کر تے تھے۔انھوں نے مزید کہا کہ نبی کریم ﷺ کا میدان عرفات والا وہ یادگار تاریخی خطبہ جو انسانیت کے نام آج بھی عالمی آئین اور حقوق انسانی کے واضح منشورکی حیثیت رکھتا ہے، ہمارے لیے قابل تقلید نمونہ فراہم کرتا ہے۔جس کی اتباع اور پیروی کی کوشش نہ کرنا بد بختی اور بد نصیبی ہوگا۔مولانا قاسمی نے کہا مختلف ممالک سے سرکاری وفود سعودی شاہ کی دعوت پر مکہ مدینہ جاتے ہیں، کاش کہ ان وفود کے درمیان اسلامی ممالک کے حالات اور عالمی صورت حال پر سنجیدگی سے مکالمہ و مباحثہ کرکے مستقبل کی داخلہ اور خارجہ پالیسی ترتیب دی جاتی۔ انھوں نے کہا کہ عالم اسلام کے موجودہ حالات کا تقاضہ ہے کہ ہمارے حکمراں، قومی اور ملی تنظیموں کے سر براہان اس مقدس موقع پر کوئی ایساہمہ گیر منصوبہ تیار کریں ، جو نہ صرف یہ کہ مسلم ممالک کی سیاست و معیشت کو صحیح سمت عطا کر نے میں معاون ہو، بلکہ مسلمانوں کی نجی زندگی میں بھی صالح انقلاب کی راہ ہموار کر نے میں معاون و مددگار ثابت ہو۔ اسی لیے متحدہ ملی محاذ نے غالب اکیڈمی میں 8ستمبر 2016بروز جمعرات،9بجے صبح حج کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ حج جیسے مقدس و متبرک اسلامی فریضہ کی فضیلتوں کے اظہار و اعلان اور ترغیب کے ساتھ حج کے مبنی بر اتحاد و مساوات اسلامی نظریہ کو بھی دانشوروں اورمختلف ممالک کے نمائندوں کے درمیان رکھا جاسکے۔