نئی دہلی،27نومبر(آئی این ایس انڈیا؍ایس او نیوز) اقوام متحدہ کے سروے کے مطابق جہیز روک تھام کے قوانین کے باوجود ہندوستان میں خواتین کی موت کے معاملات میں بڑی تعداد میں جہیزقتل سے جڑے ہیں۔سروے کے مطابق خواتین کے لئے دنیا کا سب سے خطرناک مقام ان کا گھر بن گیا ہے۔منشیات اور جرائم پر اقوام متحدہ کے دفتر (یوای اوڈی سی)کی جانب سے شائع حالیہ سروے کے مطابق گزشتہ سال دنیا بھر میں تقریبا 87000خواتین ماری گئیں اور ان میں قریب 50000یا 58فیصد کی موت ان کے قریبی ساتھی یا خاندان کے ارکان کے ہاتھوں ہوئی،اس کے مطابق ہر گھنٹے تقریباََ6 خواتین ماری جاتی ہیں۔1995سے 2013کے اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان میں سال 2016میں خواتین قتل شرح 2.8فیصد تھی جو کینیا (2.6فیصد)، تنزانیہ (2.5فیصد)، آذربائیجان (1.8فیصد)، اردن (0.8فیصد)اور تاجکستان (0.4فیصد)سے زیادہ ہے۔اس کے علاوہ گزشتہ ایک سال میں 15سے 49سال کے عمر کے گروپ میں 33.5فیصد خواتین اور لڑکیاں اور 18.9فیصد خواتین اپنی زندگی میں کم سے کم ایک بار جسمانی تشدد کا سامنا کرتی ہیں۔ہندوستان میں جہیز سے زائد متعلقہ موتیں ہمیشہ تشویش کا کاموضوع رہی ہیں۔مطالعہ میں کہا گیا ہے کہ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو سے حاصل اعداد و شمار سے یہ پتہ چلتا ہے کہ جہیز سے متعلق قتل کے معاملے خواتین کے قتل کے تمام معاملات کے 40سے 50فیصد ہیں اور اس میں 1999سے 2016کے دوران ایک مستحکم رجحان دیکھاگیا ہے۔اس کے مطابق ہندوستانی حکومت کی طرف سے 1961میں قانون نافذ کرنے کے باوجود قتل کا رجحان رکا نہیں ہے،یہ رجحان ملک بھر میں جاری ہے اور خاتون کی ہلاکت کے واقعات میں جہیز قتل کے معاملات کی ایک بڑی حصہ داری ہے۔افریقہ، ایشیا اور پیسفک کے علاقے میں رہنے والے خواتین اور ملحقہ علاقوں میں جادو ٹونے کے الزامات سے بھی متاثر ہوتی ہیں اور یہ جنسی قتل کابھی سبب ہو سکتے ہیں۔پاپوا نیو گنی اورہندوستان میں ہونے والے واقعات اور الزامات پر خواتین کی ہلاکت کے واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ صرف چھوٹے تناسب میں ہی لیکن اب بھی ایسے واقعات موجود ہیں۔یہ مطالعہ یوم بین الاقوامی پر خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لئے جاری کیا گیا تھا۔اقوام متحدہ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر یوری فیدوتوف نے کہا کہ صنفی مساوات، امتیاز اور منفی مفادات کی وجہ سے سب سے خواتین سے سے زیادہ قیمت ادا کرتی ہیں،یہی نہیں اس کی بہت ہی قریبی اور خاندان کی طرف سے مارے جانے کابھی خوف رہتاہے۔