نئی دہلی، 9 ؍ستمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )سپریم کورٹ نے آج کہا کہ دماغی اسپتالوں کی حالت کو بہتر بنانے اور زیادہ تعداد میں ان کے قیام کے سلسلے میں کوئی ہدایت وہ ایک زیر التواء بل کے پارلیمنٹ سے منظور ہونے کے بعد ہی جاری کرے گا۔چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی صدارت والی ایک بنچ نے کہا کہ یہ پورا معاملہ فی الحال پارلیمنٹ میں ہے اور پارلیمنٹ کو پہلے کوئی فیصلہ کر لینے دیں۔اس سے پہلے بنچ کو مطلع کیا گیا تھا کہ دماغی صحت دیکھ بھال بل 2013کو راجیہ سبھا سے منظوری مل گئی ہے اور اس کو سرمائی اجلاس میں لوک سبھا میں پیش کئے جانے کا امکان ہے۔اس بنچ میں جسٹس اے ایم کھانولکر اور جسٹس ڈی وائی چند رچوڑ بھی شامل ہیں۔بنچ اس سلسلے میں کئی درخواستوں پر ایک ساتھ سماعت کر رہی تھی۔ان درخواستوں میں سے ایک درخواست قومی انسانی حقوق کمیشن کی ہے۔معاملے میں اگلی سماعت ائندہ سال فروری میں ہوگی۔ایڈیشنل سالیسٹر جنرل پنکی آنند نے بنچ کو اب تک کے حالات کے بارے میں معلومات دی۔لاء آفیسر نے کہا کہ سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی کی طرف سے دی گئی تجاویز پر غور کیا گیا ہے۔سنگھوی کو اس معاملے میں ایمکس کیوری مقرر کیا گیا ہے۔