بنگلورو:30/جون(ایس او نیوز) ریاستی وزیر برائے سماجی بہبود ایچ آنجنیا نے کہاکہ درج فہرست ذاتوں اور قبائل کو سرکاری ملازمتوں کی ترقی میں ریزرویشن میں جو بھی رکاوٹیں حائل ہیں ان کو دور کرنے کیلئے ریاستی حکومت سپریم کورٹ میں عنقریب نظر ثانی کی عرضی دائر کرنے پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔ آج شہر کے این جی او ہال میں منعقدہ دلت سنگھرش سمیتی کے ایک سمینار کا افتتاح کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہاکہ درج فہرست ذاتوں اور قبائل سے وابستہ سرکاری ملازمین کو ترقی میں ریزرویشن دینے کی حکومت پابند ہے، اور ان کے مفادات کی ہر حال میں حفاظت کی جائے گی۔ اس میں جو بھی خامیاں ہیں اسے دور کرنے اور ان ملازمین سے ہوئی ناانصافی کو ختم کرنے کیلئے حکومت ماہرین قانون سے مشوروں میں مصروف ہے، جلد از جلد نظر ثانی کیلئے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی جائے گی۔وزیر موصوف نے کہاکہ سپریم کورٹ میں نظر ثانی کیلئے عرضی بحیثیت وزیر وہ خود دائر نہیں کرسکتے۔ عدالت عظمیٰ نے اس سلسلے میں جو فیصلہ صادر کیا ہے اس سے انہیں خود بھی دکھ ہوا ہے۔ اسی لئے جلد از جلد اس فیصلے پر نظر ثانی کرانے کیلئے جو بھی ممکن ہو کیا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومت درج فہرست ذاتوں، قبائل، پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کے مفادات کے تحفظ کی ہمہ وقت پابند رہی ہے۔پچھلی بی جے پی حکومت نے ان طبقات کی فلاح وبہبود کیلئے پانچ سال میں محض 22/ ہزار کروڑ روپے خرچ کئے، جبکہ کانگریس حکومت نے اپنے چار سال میں 60ہزار کروڑ روپیوں سے زیادہ رقم ان طبقات کی فلاح وبہبود پر خرچ کی ہے اور اگلے سال مزید 20ہزار کروڑ روپے خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ سدرامیا اور ان کی حکومت کامنشاء یہی ہے کہ دلت طبقات کو بہتر سے بہتر سرکاری سہولیات سے فائدہ پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ان طبقات کو توہم پرستی اور شراب نوشی کی بری عادتوں سے باہر نکالنے کی ضرورت ہے۔ بحیثیت وزیر سماجی بہبود انہوں نے یہ یقینی بنانے کی کوشش کی ہے کہ درج فہرست طبقات سے وابستہ طلبا کو ہاسٹل، اچھی سے اچھی تعلیم اور دیگر سہولیات بروقت ملتی رہیں۔امبیڈ کر نواس یوجنا کے تحت درج فہرست طبقات کو چار لاکھ مکانات مہیا کرائے جارہے ہیں۔ ریاست بھر میں 300 اقامتی اسکولوں کے قیام کو منظوری دی جاچکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ دلت سنگھرش سمیتی جو اس ریاست میں دلتوں کی ایک متحدہ آواز تھی آج آپسی اختلافات کے سبب سینکڑوں حصوں میں بٹ چکی ہے، اس کو دوبارہ متحد کرنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر دلت قائدین نے وزیر موصوف سے مطالبہ کیا کہ درج فہرست طبقات کو ملازمتوں اور ترقی میں ریزرویشن کے معاملے میں سپریم کورٹ نے جو فیصلہ سنایا ہے اس کی نفی کرنے کیلئے ضرورت پڑنے پر آرڈی ننس جاری کیاجائے، ساتھ ہی عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کا چیلنج کرنے کیلئے ماہر وکیلوں کی خدمات حاصل کی جائیں۔ ا س موقع پر ریاستی ہائی کورٹ کے وظیفہ یاب جج ایچ این ناگموہن، دلت سنگھرش سمیتی کے عہدیداروں وغیرہ نے شرکت کی۔