ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دلت و مسلم احتجاجیوں نے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو احتجاج میں شامل ہونے نہیں دیا ؛ دلت طالبہ کے قتل کے خلاف وجئے پور مکمل بند اور کامیاب 

دلت و مسلم احتجاجیوں نے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو احتجاج میں شامل ہونے نہیں دیا ؛ دلت طالبہ کے قتل کے خلاف وجئے پور مکمل بند اور کامیاب 

Sun, 24 Dec 2017 12:39:19    S.O. News Service

وجئے پور، 23؍ دسمبر(ایس او نیوز) وجئے پور میں دلت طالبہ دانما کی اجتماعی عصمت دری اور قتل کے خلاف یہاں طلب کردہ وجئے پور بند مکمل اور کامیاب رہا جس میں دلتوں اور مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ تقریباً 100سے زائد مقامی تنظیموں نے شرکت کرتے ہوئے ملزموں کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ وجئے پور کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بند کو بہترین ردعمل ملا تو دوسری جانب سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو مذکورہ احتجاج میں حصہ نہ لینے دیتے ہوئے انہیں دور رکھا گیا جس میں مرکزی وزیر رمیش جگ جنگی ، سابق مرکزی وزیر بسون گوڈا پاٹل یتنال اور سابق بی جے پی رکن اسمبلی اپوپٹن شٹی کو بند میں اپنے حمایتیوں کے ساتھ حصہ لینے اور جلوس میں شامل ہونے مشتعل ہجوم نے روکا اور واپس لوٹا دیا، موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے کانگریس اور جنتادل (ایس ) کے سیاسی رہنماؤں نے احتجاج کی جانب رخ نہیں کیا البتہ مقامی وکلا تنظیم مجلس اتحاد المسلمین ، بی ایس پی ، ایس سی، ایس ٹی و دیگر ترقی پسند تنظیموں اور کنڑا کے جملہ اداروں نے باقاعدہ جئے بھیم کے پرچے لہراتے ہوئے امبیڈ کر سرکل پہنچ کر دلت طالبہ کی تعزیت میں احتجا ج درج کیا۔ اسی طرح شہر کے چاروں رخ سے ہزاروں کی تعداد میں ہاتھوں میں دانما کی تصویروں کی تختیاں تھامے نوجوان، مردو خواتین امیبڈ کر سرکل پر جمع ہوئے پہلی جماعت کے طلباء سے لے کر مقامی اکا مہادیوی خواتین یونیورسٹی کے ہزاروں طلباء و طالبات نے بند اور احتجاجی ریلی میں شرکت کی اور دانما زندہ باد کے نعرے لگائے، شہر کے جملہ چوراہوں اور جگہ جگہ ٹائر جلا کر احتجاجی مظاہرین جب امبیڈ کر سرکل پہنچے تو یہاں ایک جم غفیر دیکھا گیا ۔ بودھی نبتے جی بودی پر دیا نند نے احتجاجی ریلی کی قیادت کی جو بسو یشور سرکل اور گاندھی چوک سے ہوتے ہوئے واپس امبیڈ کر سرکل پہنچی جہاں ایک جلسہ منعقد کیا گیا جس میں مختلف تنظیموں کے رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے ملزمان کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا اور ایک یادداشت دپٹی کمشنر کو پیش کی۔ وجئے پور بند کے پیش نظر تمام تعلیمی اداروں کو چھٹی دے دی گئی اور دن بھر کے ایس آر ٹی سی بسیں ، آٹورکشا سڑکوں پر نہیں اترے تمام تجارتی مراکز ترکاری مارکیٹ پٹرول بنک اور سنیما گھر بند پائے گئے ۔ شہر بھر میں پولیس کا زبردست انتظام کیا گیا ، احتیاطی طور پر 100سے زائد غنڈہ عناصر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ مجموعی طور پر پتھراؤ کے اکا دکا واقعات کو چھوڑ کر بند نہایت کامیاب رہا جبکہ انڈی روڈی پر ریلوے گیٹ کے نزدیک ایک کے ایس آر ٹی سی بس پر پتھراؤ کر کے جلا نے کی کوشش کی پولیس نے ناکام کردیا تاہم کنڈکنٹر کو معمولی چوٹ آئی۔ کل شام مذکورہ بند کے پیش نظر کانگریس اور بی جے پی کے رہنماؤں الگ الگ اخباری کانفرنس کو طلب کرتے ہوئے ایک دوسرے پر الزامات عائد کئے ، اپوپٹن شٹی نے ضلع نگراں کار وزیر ایم بی پاٹل اور شہر کے رکن اسمبلی ڈاکٹر مقبول باغوان پر الزام عائد کئے اور حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس معاملہ سے نمٹنے میں وہ ناکام رہے، انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ سدارامیا ضلع کے دورہ کے باوجود متاثرہ لڑکی کے گھر نہیں گئے لیکن جب انہیں بی جے پی رہنماؤں کی جانب سے دورہ کی اطلاع ملی تو وہ بھی دانما کے گھر پہنچ گئے۔ انہوں نے ڈاکٹر باغوان پر الزام لگایا کانگریس اجلاس اور وزیر اعلیٰ کے استقبال کی تیاریوں میں مشغول تھے ۔ اس کے جواب میں ڈاکٹر مقبول باغوان اور راجو الگور نے پریس کانفرنس طلب کر کے دانما کے قتل کے لئے بی جے پی رہنماؤں کے شاگردوں کو مورد الزام ٹہراتے ہوئے سوشیل میڈیا میں وائر ل تصاویر دکھا گئے جس میں اپوپٹن شٹی اور یتنال کے ساتھ ملزموں کو دکھایا گیا ہے۔ اس دوران ضلع سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے بتایا کہ چار ملزموں میں سے دو کو حراست میں لیا گیا ہے تاہم یہ ابھی واضح نہیں ہواہے کہ ملزمان کا تعلق بجرنگ دل یا سنگھ پریوار سے ہے۔


Share: