بنگلورو،29؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍رضوان اﷲ خان) شہر کے شیواجی نگر علاقہ میں آنے والی معروف درگاہ حضرت کمبل پوش کے احاطہ میں وضو خانہ، دفتر انتظامی اور دیگر سہولیات کے افتتاح کیلئے کل ایک جلسۂ عام منعقد کیاگیا۔وزیر شہری ترقیات وحج اور مقامی رکن اسمبلی جناب روشن بیگ نے علمائے کرام کے ہمراہ اس عمارت اور دیگر سہولیات کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں جناب روشن بیگ نے شہر کے قلب میں واقع اس ایک صدی سے زیادہ قدیم اوقافی ادارہ کی املاک کو ہمہ جہت ترقی سے ہمکنار کرنے پر زور دیا،اور کہاکہ وہ چاہتے ہیں کہ درگاہ سے متصل جو چھوٹے مکانات اور سلم آباد ہیں ان کو ہٹاکر وہاں پختہ عمارتیں تعمیر کی جائیں اور ان عمارتوں میں انہی مکینوں کو قیام کرنے دیا جائے جو فی الوقت یہاں بسے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومت اور مرکزی حکومت کی مختلف ہاؤزنگ اسکیموں سے استفادہ کرتے ہوئے وہ اس علاقہ میں ایک بہترین ہاؤزنگ کالونی تعمیر کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں،بشرطیکہ مقامی لوگوں کی طرف سے بھرپور تعاون حاصل ہو۔ جناب روشن بیگ نے کہاکہ اپنے حلقہ کے نہرو پورم علاقہ میں انہوں نے بی بی ایم پی کے بوسیدہ ای ڈبلیو ایس کوارٹرس کو ہٹاکر ان کی جگہ پر تمام سہولیات سے لیس دومنزلہ کوارٹرس تعمیر کروائے ہیں،انہی خطوط پر وہ چاہتے ہیں کہ کمبل پوش کی املاک پر آباد جھوپنڑ پٹی کو ہٹاکر وہاں پکے مکانات تعمیر کروائے جائیں اور ان مکانات کا مناسب کرایہ درگاہ کی آمدنی کا حصہ بنے۔ انہوں نے کہاکہ باہمی محبت اور بھائی چارگی سے ان تمام مسائل کو وہ سلجھانا چاہتے ہیں۔ کسی سے جھگڑنا ان کی فطرت نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس سے پہلے بھی درگاہ حضرت کمبل پوش کے قریب ہی سی ایس آئی اسپتال کی دیوار کے اطراف ایک جھونپڑ پٹی بس گئی تھی، انہو ں نے یہاں پر بسے لوگوں کو وائٹ فیلڈ میں متبادل مکانات فراہم کرنے کے بعد انہیں یہاں سے ہٹا دیا۔ اسی طرح قدوس صاحب قبرستان کے احاطہ میں 335 غیر قانونی جھونپڑیاں بنالی گئی تھیں، قریب ہی ایک متبادل زمین پر وہاں بسے لوگوں کو پکے مکانات تعمیر کرواکر آباد کردیا گیا اور قبرستان کے تقدس اور پاکی صفائی کو بحال کیا گیا۔
براڈوے روڈ اسپتال:شہر کے براڈوے روڈ پر زیر تعمیرامراض قلب کے اسپتال کا تذکرہ کرتے ہوئے جناب روشن بیگ نے کہاکہ برہت بنگلور مہانگر پالیکے کی طرف سے 11.5 کروڑ روپیوں کی لاگت پر اس اسپتال کی تعمیر کی جارہی ہے۔امراض قلب کا شکار افراد کو اپنے علاج کیلئے یا تو بیش قیمتی نجی اسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے یا پھر دوری پر واقع نارائن ہردالیا جانا پڑتا ہے۔ بعض اوقات اسپتال پہنچتے پہنچتے مریضوں کی موت بھی ہوجاتی ہے۔ نارائن ہردالیا جوامراض قلب کے علاج میں دنیا بھر میں مانی ہوئی اسپتال ہے ، انہوں نے اس اسپتال کے چیرمین ڈاکٹر دیوی شٹی سے گذارش کی کہ وہ شہر کے قلب شیواجی نگر میں اپنا ایک اسپتال قائم کریں۔ بی بی ایم پی کی طرف سے اس کیلئے عمارت مہیا کرائی جائے گی، ان کی رضامندی کے بعد براڈوے روڈ پر عمارت کی تعمیر کا سلسلہ تیزی سے آگے بڑھایا گیا۔ اس پر کام جاری ہے۔ نارائن ہردالیہ کی طرف سے 25 کروڑ روپیوں کے صرفہ سے اس اسپتال میں امراض قلب کے علاج کیلئے جدید ترین آپریشن تھیٹرس ، ایم آر آئی، سی ٹی اسکیان اور دیگر سہولیات قائم کی جائیں گی۔ اس اسپتال کے ذریعہ نہ صرف شیواجی نگر ،بلکہ آس پاس کے بہت سارے علاقوں کے لوگوں کو کافی فائدہ ہوگا۔
بورنگ میڈیکل کالج: بورنگ اسپتال کے احاطہ میں ریاستی حکومت کی طرف سے میڈیکل کالج کے قیام کا فیصلہ کیاگیا ۔ جناب روشن بیگ نے بتایاکہ وزیراعلیٰ سدرامیا نے اپنی بجٹ تقریر میں اس کا اعلان کیا اور وہ اپنے حلقہ کے عوام کو یہ پیغام مسرت دینا چاہتے ہیں کہ آج ہی محکمۂ مالیات کی طرف سے بورنگ اسپتال میں قائم ہونے والی بنگلور میڈیکل کالج 2 کو 168 کروڑ روپے جاری کئے گئے ہیں۔ اس رقم کو صرف کرنے کے بعد بورنگ اسپتال کا نقشہ ہی بدل کر رہ جائے گا اور یہاں مریضوں کو ہر طرح کی سہولت مہیا ہوگی۔ عنقریب بورنگ میڈیکل کالج کی تعمیر کا کام بھی شروع کردیا جائے گا۔ جناب روشن بیگ نے بتایاکہ شیواجی نگر میں خواتین کے علاج کیلئے قائم سرکاری حاجی سر اسماعیل سیٹھ گوشہ اسپتال بھی بورنگ میڈیکل کالج کا حصہ رہے گی۔ یہاں پر خواتین کے علاج کیلئے جدید ترین سہولیات قائم کی جائیں گی۔ان کا یہ خواب ہے کہ گوشہ اسپتال کو ریاست میں خواتین کے علاج کا بہترین مرکز بنائیں۔ اس کو شرمندۂ تعبیر کرنے کیلئے سرکاری سطح پر جدوجہد جاری ہے۔
سرکاری اسپتالوں میں علاج کروائیں: جناب روشن بیگ نے عوام سے گذارش کی کہ وہ بیماری کی حالت میں پرائیویٹ اسپتالوں کا رخ کرکے بیجا اسراف کرنے اور ان اسپتالوں کی لوٹ کا شکار ہونے کی بجائے سرکاری اسپتالوں کا رخ کریں ۔ ان اسپتالوں میں ہر طرح کی سہولیات مہیا کرائی گئی ہیں۔اچھے اور ماہر ڈاکٹروں کی خدمات دستیاب ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہمارے لوگ ان سہولیات کو نظر انداز کرکے اپنی محنت کی کمائی کو پرائیویٹ اسپتالوں میں لٹانے کیلئے پہنچ جاتے ہیں۔
وی کے عبیداﷲ اسکول: جناب روشن بیگ نے بتایاکہ انہیں فخر ہے کہ انہوں نے ایک اردو اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ شیواجی نگر ، شیواجی روڈ پر واقع وی کے عبیداﷲ اسکول میں انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کی۔ آج اس اسکول کی بوسیدہ عمارت کی جگہ ایک عالیشان اسکول تعمیر ہورہا ہے۔ اس اسکول میں طلبا کو ہر طرح کی سہولت فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی اور یہاں کے تعلیمی معیار کو بہتر سے بہتر بنانے پر خاص توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ بچپن میں جب بھی وہ کوئی بے چینی محسوس کرتے تو اسکول سے نکل کر سیدھے درگاہ حضرت کمبل پوش کے احاطہ میں آجاتے ، اپنی ان یادوں کو وہ ہمیشہ سمیٹ کر رکھنا چاہتے ہیں۔
ردریش کا قتل افسوسناک: حال ہی میں شیواجی نگر علاقہ میں آنے والے کامراج روڈ پر بی جے پی اور آر ایس ایس کے کارکن ردریش کے قتل کو افسوسناک واقعہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس واقعہ کی وجہ سے چند مفاد پرستوں نے مذہبی منافرت کو ہوا دینے کی ناکام کوشش کی، لیکن شیواجی نگر کے عوام کی دانشمندی اور آپسی بھائی چارگی ومحبت نے ان کوششوں کو ناکام بنادیا۔ انہوں نے کہاکہ شیواجی نگر کے تمام طبقات آپس میں مل جل کر رہیں اور باہر کے لوگوں کو یہاں آکر ماحول کو مکدر کرنے کا موقع ہر گز فراہم نہ کریں۔ جناب روشن بیگ نے کہاکہ اولیائے کرام نے ہر دور میں محبت اور یگانگت کی تعلیم دی ہے، ان تعلیمات کو اپنا کر آج بھی باہمی بھائی چارگی ، اتحاد اور امن برقرار رکھا جاسکتا ہے۔
مولانا محمد حنیف افسر عزیزی: اس موقع پر اپنے خطاب میں مسجد بیوپاریاں شیواجی نگر کے خطیب وامام مولانا محمد حنیف افسر عزیزی نے کہاکہ اس حقیقت کو کوئی جھٹلانہیں سکتا کہ ہندوستان میں دین اسلام اولیائے کرام کے ذریعہ پھیلاہے۔خواجہ معین الدین چشتی ؒ کی بدولت لاکھوں ہندوستانیوں نے مذہب اسلام قبول کیا۔ اولیائے کرام کے فیض اور برکات کی بدولت ہی آج نہ صرف ہندوستان بلکہ عالم میں امن وامان برقرار ہے۔اوقافی املاک پر ناجائز قبضوں کا تذکرہ کرتے ہوئے مولانا حنیف افسر عزیزی نے کہاکہ اوقاف اﷲ کی امانت ہیں۔ ان پر قبضہ کرنے والا گویا اﷲ سے بغاوت کرتا ہے۔امت کی بدقسمتی ہے کہ جتنی درگاہیں ، خانقاہیں اور مساجد ہیں ان کی املاک کو مال غنیمت سمجھا جاتاہے۔اگر ان املاک کا صحیح استعمال ہو اور انہیں ترقی دی جائے تو وہ یہ دعوے کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ مسلمانوں کی معاشی حالت خود بخود سدھر جائے گی اور انہیں اپنی ضروریات کی تکمیل کیلئے کسی سرکاری اسکیم کا منتظر ہونا نہیں پڑے گا۔ اوقافی املاک کی حفاظت پر زور دیتے ہوئے مولانا نے کہاکہ ان املاک کی ذمہ داری جن احباب کے سپرد ہو وہ اسے اپنا دینی وملی فریضہ سمجھ کر اس کے تقاضوں کو پورا کریں۔ انہوں نے کہاکہ جناب روشن بیگ کی سرپرستی میں بنگلور اربن ضلع وقف مشاورتی کمیٹی کے چیرمین سید شجاع الدین، شہر کی بیشتر اوقافی املاک کے دستاویزات جمع کرنے اور انہیں درست کرنے کے بعد ان املاک کو ترقی دینے کی مہم پر کام کررہے ہیں۔اس میں کافی حصہ تک کامیابی بھی ملی ہے۔ اس موقع پر درگاہ حضرت کمبل پوش کے صدر سید اعجازاحمد کے اے ایس نے ادارہ میں اپنی کارگذاری کی رودا دسنائی اور کہاکہ یہاں کے حالات کو بہتر بنانے کیلئے وہ ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ انہوں نے ادارہ کے کرایہ داروں سے گذارش کی کہ وہ ادارہ کی ترقی اور اوقافی املاک کو بہتر بنانے میں کمیٹی کا تعاون کریں۔ اس موقع پر وظیفہ یاب آئی اے ایس آفیسر محمد ثناء اﷲ ، بی بی ایم پی کی ٹیکس اینڈ فائنانس کمیٹی کے چیرمین ایم کے گنا شیکھر نے بھی اپنے خیالات ظاہر کئے۔ تقریب میں مولانا محمد غلام مختار اشرفی خطیب وامام مسجد حضرت کمبل پوش ، مولانا عبدالقادر شاہ واجد خطیب وامام جمع مسجد معسکر بنگلور، کارپوریٹرس شکیل احمد، محمد ضمیر شاہ ، وسنت کمار، کانگریس لیڈر اشتیاق احمد ، ریاستی وقف بورڈ کے چیف ایگزی کیٹیو آفیسر ذوالفقار اﷲ ،اور دیگر عمائدین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ استقبالیہ خطاب درگاہ کمیٹی کے رکن نصیر احمد نے کیا اور جلسہ کی نظامت منیر احمد جامی نے کی۔ قرأت سے جلسہ شروع ہوا اور دعا اور فاتحہ پر اختتام ہوا۔