بھوپال،25؍دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)مدھیہ پردیش میں سال 2018 میں اسمبلی انتخابات ہونا ہے۔حکمراں بی جے پی کے سامنے سب سے بڑی مشکل اپوزیشن پارٹی نہیں بلکہ خود حکومت میں شامل لوگ ہیں۔یہ بات انٹیلی جنس رپورٹ سے پتہ چلی ہے۔مدھیہ پردیش میں کئی ایسے مسائل ہیں جن سے عوام حکومت سے ناراض ہے ایسے میں بہت سے اراکین اسمبلی کے ہارنے کی رپورٹ نے شیوراج کی مشکل کو اور بڑھا دی ہے۔مدھیہ پردیش اسمبلی میں فی الحال بی جے پی کے پاس 165، کانگریس کے پاس 58 اور دیگر 7 رکن اسمبلی ہیں۔لیکن 2018 میں حالات بدل سکتے ہیں خود پارٹی کے سربراہوں کی ریاضی یہ اشارہ دے رہی ہے۔پارٹی مانتی ہے کہ 61 سیٹیں ایسی ہیں جن پر معاملہ پھنس سکتا ہے۔حال ہی میں ہوئے ضمنی انتخابات سے بھی پارٹی کو یہ اشارہ ملا ہے۔پارٹی لیڈر معلومات اکٹھا کررہے ہیں جہاں بھی انہیں پتہ لگ رہا ہے کہ 60-70 سیٹوں کا ہندسہ بی جے پی کے لیے مشکل کھڑی کررہا ہے۔پارٹی کو یہ بات معلوم ہے اس لئے دفتر میں سال بھر پہلے ہی اس کی کوشش شروع ہوگئی ہے۔ کانگریس بھی انہی مسائل کو ہی ہوا دے رہی ہے۔