کاروار23؍دسمبر (ایس او نیوز) ہوناور میں پریش میستا کی موت کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی اور ممکنہ پر تشدد واقعات کے تعلق سے مبینہ طور پر سرکاری خفیہ ایجنسی نے پیشگی رپورٹ دی تھی، لیکن مقامی پولیس نے اس طرف توجہ نہیں دی اور اسے زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا۔
کہا جاتا ہے کہ پریش کی موت کے سلسلے میں ہندوؤں کے اندر پائی جانے والی برہمی اور احتجاج کے دوران گاؤں اور دیہاتوں سے بڑی تعداد میں لوگوں کے جمع کی اطلاع خفیہ محکمہ کو پہلے ہی مل گئی تھی۔جس سے کمٹہ پولیس کو بھی باخبر کردیا گیا تھا۔اس کے بعد کمٹہ پولیس نے سماج میں بدامنی کا ماحول پیدا ہونے سے روکنے کے لئے بی جے پی لیڈروں کی بیٹھک منعقد کی۔ اس میٹنگ میں شرکت کرنے والے لیڈروں نے مبینہ طور پر پولیس کو یقین دلایا کہ کمٹہ میں فساد نہیں ہوگا اورچونکہ احتجاج میں ایک ہزار سے زیادہ افراد شرکت کرنے والے نہیں ہیں، اس لئے کسی قسم کا ہنگامہ نہیں ہوگا۔پولیس نے خفیہ محکمہ کی رپورٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے بی جے پی لیڈروں کی باتوں پر اعتبار کیا اور زیادہ حفاظتی انتظامات کی طرف توجہ نہیں دی بلکہ بے پروائی کا مظاہرہ کیا۔
لیکن دوسرے د ن بند کے دوران منظر ہی بدل گیا۔بند میں شرکت کے لئے دیہاتوں سے نوجوانوں کے جھنڈ کے جھنڈامڈ پڑے۔اور پولیس اپنے ناکافی انتظامات کی وجہ سے منھ دیکھتی رہ گئی۔ کہا جاتا ہے کہ خفیہ محکمہ نے حفاظتی بندوبست کے لئے کم از کم 500پولیس والوں کی ضرورت ہونے کی رپورٹ دی تھی۔ مگر ایسا نہیں ہوااور نتیجہ یہ ہوا کہ مغربی ژون کے آئی جی پی نمباولکر کی کار تک نذر آتش کردی گئی!