بنگلورو۔21؍نومبر(ایس او نیوز)ریاست میں خشک سالی کی صورتحال پر آج ایوان بالا میں فوری بحث کی اجازت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر کے ایس ایشورپا کی ضد کی وجہ سے حکمران اور حسب اختلاف کے درمیان نوک جھوک ہوئی ،جس کے نتیجہ میں ایوان میں شور وغل مچ گیا۔آج جیسے ہی ایوان میں تعزیتی قرار داد منظور ہوئی اس کے فوراً بعد اپوزیشن لیڈر ایشورپا نے خشک سالی کی صورتحال پر بحث کیلئے تحریک التواء پیش کرنی چاہی ، انہوں نے چیرمین شنکر مورتی سے مطالبہ کیا کہ انہیں تحریک التواء پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔ شنکر مورتی نے انہیں اجازت بھی دے دی، لیکن جیسے ہی ایشورپا نے بولنا شروع کیا ، چیرمین کے فیصلے پر ایوان کے لیڈر اور وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور نے سخت اعتراض کیا اور کہاکہ پہلے وقفۂ سوالات چلایا جائے اور بعد میں تحریک التواء کی اجازت دی جائے۔ہر بار یہی طر یقہ اپنانا درست نہیں ۔حکومت بھی چاہتی ہے کہ خشک سالی کے مسئلہ پر بحث ہو، کیونکہ ریاست کے 139 تعلقہ جات خشک سالی سے متاثر ہیں، لیکن ایوان کی کارروائیوں کو ضابطہ کے مطابق ہی چلایا جانا چاہئے۔ ایشورپانے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہاکہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو خشک سالی کے مسئلے پر ایوان میں بحث کرانے میں دلچسپی نہیں ہے۔ حکومت خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کی سنگین صورتحال سے ناواقف ہے۔ اسی بات کو لے کر اپوزیشن اور حکمران ممبران میں زور دار نوک جھونک ہوئی، پرمیشور نے کہاکہ ایوان کے ضوابط کو جو آج ہی سے لاگو ہوئے ہیں اس طرح توڑا نہیں جاسکتا۔ انہوں نے چیرمین سے کہا کہ وہ خود ایوان میں اعلان کریں کہ ضوابط توڑتے ہوئے وہ خشک سالی کی بحث کی اجازت دے رہے ہیں۔ پرمیشور کے یہ کہتے ہی چیرمین بھی حواس باختہ ہوگئے۔ اس مرحلے میں جنتادل (ایس) کے بسوراج ہوراٹی نے کہاکہ ایک طرف خشک سالی کی سنگین صورتحال اور دوسری طرف مرکزی حکومت کی طرف سے معاشی ایمرجنسی کا نفاذ کرتے ہوئے ہزار اور پانچ سو کے نوٹوں پر پابندی ان دونوں سے عام لوگوں کو کافی پریشانیاں ہورہی ہیں۔ اسی لئے دونوں امور پر بحث کی اجازت دی جائے۔ ایشورپا نے کہاکہ ریاست بھر کے کوآپریٹیو بینکوں سے کسانوں نے 96834 کروڑ روپیوں کے قرضہ جات لئے ہیں۔ کوآپریٹیو بینکوں نے 12850 کروڑ روپیوں کے قرضہ جات معاف کئے ہیں، چونکہ ریاست میں خشک سالی کی صورتحال سنگین ہے اسی لئے باقی قرضہ جات بھی معاف کردئے جائیں۔ انہوں نے کہاکہ ریاست میں پینے کے پانی کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے حکومت نے ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کیا ہے۔حکومت کی طرف سے اپنے حصہ کی رقم جاری کردی جائے ، بعد میں مرکز سے تقاضہ کیا جاسکتاہے۔ خشک سالی سے متاثر 139 تعلقہ جات میں صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہر تعلقہ کو 50لاکھ روپے جاری کرنے کا وزیر اعلیٰ سدرامیا نے اعلان کیا ، لیکن محکمۂ مالیات نے کوئی رقم جاری نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ خشک سالی کی صورتحال جب تک نمٹ نہیں جاتی اس وقت تک کسی ضلع کے ڈپٹی کمشنر یا ضلع پنچایت کے سی ای او کا تبادلہ نہ کیا جائے۔انہوں نے مشورہ دیا کہ خشک سالی سے نمٹنے کیلئے آئندہ ہر بجٹ میں دس ہزار کروڑ روپے الگ سے مہیا کرادئے جائیں۔