بنگلورو۔6؍دسمبر(ایس او نیوز)ریاست میں خشک سالی کی سنگین صورتحال سے نمٹنے اور فوری راحت کاری اقدامات کی نگرانی کرنے کیلئے چار کابینی وزراء پر مشتمل ایک کابینہ ذیلی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ یہ کمیٹی ہر ضلع میں خشک سالی سے نمٹنے کیلئے جاری کاموں کی پیش رفت کا جائزہ لے گی۔ یہ بات آج ریاستی وزیر مالگذاری کاگوڈ تمپا نے بتائی۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ریاست کے ہر ڈویژن کیلئے کابینہ ذیلی کمیٹی کے ایک ایک وزیر کو متعین کیا جائے گا۔ رواں ماہ کی 20 تاریخ تک یہ کمیٹی مختلف اضلاع کا دورہ کرے گی اور ہر ضلع میں جاری راحت کاری کی پیش رفت کا جائزہ لے کر ریاستی کابینہ کو اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ وزیر موصوف نے کہاکہ یہ کمیٹی خشک سالی سے نمٹنے کیلئے اقدامات کا جائزہ لینے کے ساتھ یہ بھی یقینی بنائے گی کہ ہر ضلع میں پینے کے پانی کی فراہمی ، جانوروں کیلئے چارہ اور کاشتکاروں کیلئے امداد کا کام صحیح ڈھنگ سے چل رہا ہے یا نہیں۔ کمیٹی میں شامل وزراء چاروں ڈویژنوں میں اضلاع کے عوام سے بھی مذاکرہ کریں گے، اور ساتھ ہی اب تک خشک سالی سے نمٹنے کیلئے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں افسران سے تفصیلات حاصل کریں گے۔کاگوڈ تمپا نے بتایا کہ خشک سالی سے نمٹنے کیلئے ریاستی حکومت نے مرکزی حکومت سے فوری طور پر 4700 کروڑ روپیوں کی امداد طلب کی ہے۔ ترجیحی بنیاد پر ریاستی حکومت کی طرف سے راحت کاری اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں خشک سالی کی حالت جس قدر سنگین ہے وہ حکومت کیلئے ایک چیلنج سے کم نہیں۔ اس صورتحال سے بہتر سے بہتر طریقے سے نمٹنے کیلئے حکومت ہر طرح کا قدم اٹھانے کی تیاری کررہی ہے۔ محکمۂ انکم ٹیکس کی طرف سے بعض بدعنوان افسران کے ٹھکانوں پر چھاپوں کا وزیر موصوف نے خیر مقدم کیا اور کہاکہ انتظامیہ سے ایسے بدعنوان افسران کا خاتمہ کرپشن کے خاتمہ کیلئے بہت ضروری ہے۔ایسے افسران کی وجہ سے حکومت کی اچھی کارکردگی بھی بدنام ہوجاتی ہے۔ان افسران کو اگر یونہی برقرار رہنے دیا گیا تو عوام کی مشکلات میں اور اضافہ ہوگا۔وزیر موصوف نے کہاکہ انکم ٹیکس کے ان چھاپوں سے بدعنوان عناصر کو ایک وارننگ ضرورگئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کے عام شہری کو یہاں دو ہزار روپیوں کے ایک دو نوٹوں تک بھی رسائی نہیں ہے، ایسے میں ان بدعنوان افسران کے پاس نئے نوٹوں کے انبار کیسے پہنچے اس کی سختی سے جانچ ہونی چاہئے۔وزیر موصوف نے کہاکہ مرکزی حکومت کی طرف سے نوٹوں پر پابندی کے بعد عام آدمی کو جس طرح کی سختیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اتنی ہی آسانی سماج کے امراء کو ہورہی ہے۔ جس مقصد کے تحت نوٹوں پر پابندی لگائی گئی وہ مقصد تو پورا نہیں ہوا بلکہ کالے دھن والوں کو ایسے رشوت خور افسران کی وجہ سے آسانی ہوگئی۔ سابق وزیر جناردھن ریڈی کی دختر کی شادی میں پانچ سو کروڑ روپیوں کے اصراف کا حوالہ دئے بغیر کاگوڈ تمپا نے کہاکہ ریاست کا سیاسی نظام اس قدر فرسودہ ہوچکا ہے کہ ایک سیاستدان جو دو ڈھائی سال مسلسل جیل میں رہ کر باہر نکلتا ہے تو کسی کی پرواہ کئے بغیر وہ اپنی دختر کی شادی میں اپنی دولت کا اصراف کرتا ہے۔ سیاسی اور قانونی نظام کی تاراجی کی اس سے بدترین مثال اور کیا ہوسکتی ہے۔