چنتامنی:24 /دسمبر(محمد اسلم؍ایس او نیوز)بزرگ مجاہد آزادی دورے سوامی نے کہا کہ 64سال قبل انگریزوں سے ملک کو آزاد کروانے کیلئے جس طرح کی جدوجہد کی گئی تھی ملک کی آزادی کے بعد بھی اسی طرح کی ایک جدوجہد لازم وملزوم ہے فرق صرف اتنا ہے کہ وہ جدوجہد آزادی کیلئے تھی اور یہ جدوجہد کسانوں (رعیتوں) کے جائز حقوق کیلئے کی جارہی ہے ریاست کرناٹک میں چاہئے کوئی پارٹی اقتدار پر آئے لیکن سب کا رویہ رعیتوں کے تئیں غیر منصفانہ ہی ہوتا ہے حکومتیں اقتدار حاصل کرنے سے قبل رعیتوں کو سنہرے خواب دکھلائے جاتے ہیں جب اقتدار حاصل ہوجاتا ہے تو عیاری پر اتر آتے ہیں ۔آج کرناٹک راجیہ رعیت سنگھا کے زیر اہتمام شہر کے آزاد چوک میں منعقد ’’یوم کسان‘‘ تقریب کا افتتاح شمع روشن کرکہ کرنے بعد خطاب کرتے ہوئے دورے سوامی نے کہا کہ ترقی یافتہ اس دور میں بھی رعیت قرضوں کے خوف سے گھبرا کر خود کشی کررہے ہیں ملک خوشحالی کا انداز اس طرح سے لگایا جاسکتا ہے جب اس ملک کا بچہ بھوکوں نہ مرے اور رعیت خود کشی کرنے پر مجبور نہ ہوجائے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے ملک میں بچے بھوکوں مررہے ہیں اور رعیت خود کشی کررہے ہیں ایوانوں میں بیٹھ کر سبز انقلاب کے نعرے لگوانے والوں کو چاہئے کہ وہ ایر کنڈیشن کے بند کمروں میں بیٹھ کر فیصلے کرنے کے بجائے زراعت کو بچانے اور کا شتکاروں میں بیداری لانے کیلئے سڑکوں پر اتر کرسبز انقلاب کی تحریک چلائیں اور جتنا روپیہ ملک کی حفاظت کیلئے خرچ کیا جارہا ہے اسکا نصف حصہ زراعت کے شعبے میں انقلاب لانے کیلئے استعمال کریں تو عین ممکن ہے کہ ہمارا ملک نہ صرف خوشحال ملک کہلانے کا مستحق ہوگا بلکہ دیگر ممالک کو اناج تقسیم کرنے والا ملک بن جائیگا۔دورے سوامی نے مزید کہا کہ ملک کی ریڑھ ہڈی کہلانے والی زراعت تباہی کے مقام پر آکھڑی ہے جہاں سے واپس اناناممکن ہوتا جارہا ہے آزادی سے قبل ہمارے ملک میں 75فیصد افراد کی زندگی کا انحصارزراعت پر مشتمل تھا لیکن اب تک یہی زراعت گھٹ کر چالیس فیصد ہوگئی ہے۔بعد ازاں کرناٹکا راجیہ رعیت سنگھا کے ریاستی صدر راگھونات ریڈی نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چکبالاپور کولار جڑواں اضلاع میں پانی کی قلت سے پریشان عوا م نے اپنے مختلف اقسام کے احتجاجات کئے ریاست کے ہر لیڈرکی رہائش گاہوں کو پہنچ کر ضلع میں پانی کی قلت کو دور کرنے اور آبی مسائل کو حل کرنے کے لئے کہا مگر اب تک کوئی پکی کارروائی نہیں ہوئی ہے اور ضلع کے عوام کے ساتھ کھلوڑا کیا جارہا ہے۔راگھونات ریڈی نے کہا کہ یتنا ہولے پراجکٹ سے ضلع کی زراعت کو پانی مسیر نہیں ہوگا اس کو چھوڑ دیں اس مسئلے کو لیکر سیاست دان اپنی سیاست چمکانے میں لگے ہوئے ہیں ریاستی و مرکزی حکومت دونوں اضلاع کے عوام کے ساتھ کھلوڑا کرنا چھوڑا دیں ہمارے مطالبے پر توجہ دیں کے سی ویالی اسکیم کا آلودہ پانی بھی صرف 50فیصد ملے گا اور اس کو صاف وشفاف کرنے نکلے تو اس سے کوئی فائدہ نہیں اور آدھا پانی ویسٹ ہوجائیگا اور وہ پانی سپلائی ہونے تک وہاں زراعت اور پینے کے پانی کی قلت میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔انہوں نے کہا دونوں اضلاع کے عوام کو مرکزی اور ریاستی حکومت بے قوف بنارہی ہے کیونکہ جس وقت رُکن پارلیمان کے انتخابات تھیں اُس وقت کانگریس حکومت دونوں اضلاع کے ووٹروں سے ووٹ حاصل کرنے کے خاطر یتنا ہولے پراجکٹ کا سنگ بنیاد رکھا کر عوام کو گمراہ کیا گیا ہمیں یتنا ہولے پراجکٹ کی نہیں بلکہ مستقل آبپاشی منصوبے کی ضرورت ہے یتنا ہولے پراجکٹ کو ایک سیاسی ڈرامہ اور انتخابات کے قریب عوام کو گمراہ کرنے کی ایک سازش تھی ہمیں یتنا ہولے پرجکٹ کی ضرورت نہیں پرم شیویا رپورٹ کی ضرورت ہے اس رپورٹ میں پانی کی سطح اور کہاں سے لایا جائے گا اور کتنی مقدار ہونی چاہئے اس کی ضرورت نہیں صرف عوام کو گمراہ کرتے ہوئے رُکن پارلیمان ویرپاموئیلی چکبالاپور ضلع کے عوام کو بے قوف بنایا ہے ۔انہوں نے مزید ریاستی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ کرناٹک میں کسان خود کشی کررہے ہیں اور حکومت سورہی ہے سدارامیا حکومت کے خلاف کسانوں میں غصہ دیکھا جارہا ہے کئی اضلاع کو قحط زدہ قرار دیا جاچکا ہے مگر وہاں پر قحط سالی کے کوئی کام نہیں ہورہے ہیں کرناٹک میں سدارمیا کے دور اقتدار میں جتنے کسانوں نے خود کشی کی ہے اور کسی حکومت میں نہیں کی ہے اس کے لئے ریاستی حکومت ذمہ دار ہے۔اس موقع پر سمتا سینا دالہ کے ریاستی صدر وینکٹ سوامی راجیہ رعیت سنگھا کے جنرل سکریٹری وینکٹ رئیپا سکریٹری شری رام ریڈی بی جے پی لیڈر ارون بابو ڈاکٹر رمیش ،وکیل ایشورا گوڈا راچناگوڈا کنڑا شاعر منی ریڈی کرشنا سمیت چنتامنی تعلقہ کے کئی ہزار رعیت وغیرہ موجود رہے۔