ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / حکومت کی جانب سے تیار فیس ڈھانچہ ہائی کورٹ میں پیش والدین اور طلبہ کی پرزور مخالفت، عدلیہ کو خوش کرنے کاالزام

حکومت کی جانب سے تیار فیس ڈھانچہ ہائی کورٹ میں پیش والدین اور طلبہ کی پرزور مخالفت، عدلیہ کو خوش کرنے کاالزام

Sat, 29 Oct 2016 11:36:23    S.O. News Service

بنگلورو۔27؍اکتوبر(ایس او نیوز) اسکول کی فیس معاملہ کو لے کر ریاستی حکومت نے منظوری کیلئے مجوزہ بل ہائی کورٹ میں پیش کیا ہے ۔ جبکہ والدین ، طلبہ اور دیگر اداروں کی جانب سے اس بل کی مخالفت کی جارہی ہے ۔ حالاکہ حکومت نے اس سلسلہ میں تجویز پیش کی ہے کہ پرائیویٹ اسکولوں میں فیس اسٹرکچر کو سامنے رکھا جائے اور حق تعلیم ( آر ٹی ای) کے تحت جن بچوں کا داخلہ کیا جاتاہے ان کی فیس میں کمی کی جائے ۔ والدین اور طلبہ نے یہ کہتے ہوئے اس پیشکش کے خلا ف آواز بلند کی ہے کہ اس سے ان بچوں کی فیس میں کمی کردی جائے گی مگر اسکول انتظامیہ اس کمی کودوسرے بچوں کی فیس سے پوری کریں گے۔ جس سے دیگر والدین کو پریشانی ہوگی ۔ اس سلسلہ میں اسو سی ایٹیڈمینجمنٹ آف پرائمری اینڈ سکینڈری اسکولس ان کرناٹک ( کے اے ایم ایس) کے زیر اہتمام منعقدہ اجلاس میں ریاست بھر سے 1900پرائیویٹ اسکول انتظامیہ نے شرکت کیں۔ اس موقع پر ستیا ہائی اسکول بلاری کا نمائندہ مری سوامی ریڈی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے جو بل تیار کی گئی ہے ، اس میں بہت زیادہ تفریق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شہری اور دیہی میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہئے ۔ تمام علاقوں کے اسکولوں میں فیس ڈھانچہ یکساں ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم لوگ اپنے اسکول میں فی طالب علم سے سالانہ 7ہزار روپئے بطور فیس وصول کرتے ہیں ۔ ریاستی حکومت کی جانب سے مجوزہ بل پرائیویٹ اسکولوں کے خلاف ہے ۔ حکومت نے اپنے مفاد کو سامنے رکھ کر ہی اس بل کو تیار کیا ہے ۔ لال بہادر شاستری میموریل اسکول بنگلور ساؤتھ کا نمائندہ پی ایم ستیہ نارائن نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ بل حکومت نے ہائی کورٹ کو خوش کرنے کیلئے پیش کیا ہے ۔ حقیقت میں اس بل میں کوئی نئی چیز نہیں ہے ،حالانکہ پرائیویٹ اسکول انتظامیہ کو اس سے آزادی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ اسکول انتظامیہ پر حکومت کی جانب سے مسلسل دباؤ بڑھ رہا ہے ،اس لئے ہم اس کی مخالفت کررہے ہیں ۔ واضح ہو کہ ریاستی حکومت نے فیس کے سلسلہ میں ایک بل تیار کیا ہے جس میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ تمام امدادی اسکولوں میں آر ٹی ای کے تحت زیر تعلیم طلبہ کی فیس میں کمی کی جائے گی۔جس سے غریب خاندان سے تعلق رکھنے والے بچوں کو فائدہ ہوگا ۔ بل میں یہ بات بھی بتائی گئی ہے کہ شہر کے تمام اسکولوں میں 50فیصد فیس کم کی جائے گی جبکہ 60فیصد سٹی میونسپل اور 75فیصد کا رپوریشنس اسکولوں میں زیر تعلیم طلباء و طالبات کی فیس میں رعایت دی جائے گی ۔ بروہت بنگلور مہا نگر پالیکے( بی بی ایم پی) اسکولوں میں 100فیصد مفت تعلیم دی جائے گی۔مسٹر ششی کمار نے اس پر اعتراض کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے تیار فیس ڈھانچہ در اصل یکطرفہ ہے ۔ سٹی منسپل اور بی بی ایم پی کا جو فرق رکھا گیا ہے وہ ٹھیک نہیں ہے ۔ اس لئے کہ اخراجات کی شرح تمام اسکولوں میں یکساں ہیں۔ اس کے بعد الگ الگ فیس کی شرح کوئی معنی نہیں رکھتا ۔ اسوی ایشن کے جنرل سکریٹری ڈی ششی کمار نے اس سلسلہ میں بتایا کہ حکومت نے جو فیس ڈھانچہ تیار کیا ہے وہ یکساں نہیں ہے بلکہ اس میں من مانی کی گئی ہے ۔ اس لئے کہ اس سلسلہ میں حکومت نے پرائیویٹ اسکول انتظامیہ کے ساتھ صلاح و مشورہ نہیں کیا ہے ۔ یہ ڈرافٹ در اصل سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہے جو 26 فروری 2004میں خصوصی پٹیشن نمبر265/67/1997کے تحت جاری کیا گیا تھا ۔ اجلاس میں موجود ایک شخص نے کہا کہ حکومت کی نئی پالیسی کے تحت غریب والدین کو بہت پریشانی ہوگی ۔ آر ٹی ای کے تحت فیس میں کمی کی جائے گی مگر اسکول انتظامیہ اپنا نقصان کبھی برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ اس سلسلہ میں والدین سے رائے اور مشورے کرے تاکہ ان کی تجاویز کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ کیا جاسکے ۔


Share: