واشنگٹن،15؍اکتوبر(ایس اونیوز ؍آئی این ایس انڈیا)امریکی کانگریس کے معروف ریپبلکن سینیٹر جان مک کین نے اس بات کا غالب گمان ظاہر کیا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے خلیج عدن میں امریکی بحری جہاز پر داغے گئے میزائل ایران کے بھیجے ہوئے ہیں۔ مک کین نے جو سینیٹ میں مسلح افواج کی کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں باور کرایا کہ ایرانی حکومت ہی ہے جس نے غالبا یہ میزائل فراہم کیے۔یاد رہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ حوثیوں نے اتحادی افواج پر ایرانی میزائل داغے ہیں بلکہ ایرانی ایجنسیاں اس بات کو تسلیم کرچکی ہیں کہ اگست میں تہران نواز ملیشیاؤں نے سعودی عرب پر جو میزائل داغے تھے وہ ’’زلزلہ‘‘سیریز کے ایرانی میزائل تھے۔امریکا نے بحیرہ احمر کے جنوبی علاقے میں اپنے عسکری وجود میں اضافہ کر لیا ہے۔ یہ پیش رفت حوثیوں کی جانب سے گزشتہ ہفتے اماراتی امدادی بحری جہاز "سوئفٹ" کو نشانہ بنانے کے بعد سامنے آئی۔ واشنگٹن نے مذکورہ واقعے کو دہشت گرد کارروائی قرار دیا جو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے خطرہ ہے۔
یاد رہے کہ امریکی فوج کی جانب سے یمن میں حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں ساحلی ریڈاروں پر کروز میزائلوں سے حملوں کے بیچ ایران نے خلیج عدن اور باب المندب کے مقابل علاقوں میں اپنے دو بحری جنگی جہازوں کو بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔امریکی وزارت دفاع پینٹاگون نے جمعرات کے روز اعلان کیا تھا کہ امریکی فوج نے یمن میں حوثیوں کے ریڈاروں کے ٹھکانوں کو حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ کارروائی ایران نواز ملیشیاؤں کی جانب سے امریکی بحریہ کے میزائل شکن جہاز پر ناکام میزائل حملوں کے جواب میں کی گئی۔